کیا پنجاب ایس پی سنگھا کے ووٹ سے پاکستان کا حصہ بنا؟

پنجاب اسمبلی میں 23 جون 1947 کو ہونے والی کارروائی میں یہ فیصلہ ہونا تھا کہ آیا متحدہ پنجاب انڈیا کا حصہ ہونا چاہیئے یا پھر مشرقی پنجاب کو انڈیا جبکہ مغربی پنجاب کو پاکستان کا حصہ بنایا جاۓ۔ اس حوالے سے مسیحی برادری کا طویل عرصہ سے یہ دعوٰی ہے کہ اگر اُس روز متحدہ پنجاب اسمبلی کے آخری سپیکر جناب ایس پی سنگھا صاحب، جو کہ ایک پنجابی مسیحی تھے، کاسٹنگ ووٹ کا حق استعمال نہ کرتے تو لاہور یا پنجاب آج پاکستان کا حصہ نہ ہوتا۔ اسی دعوے کے زیر اثر مسیحیوں کی تحریریں پڑھ کر کئی مسلم دانشوروں نے بھی اس بات کو تاویل کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔
اس ووٹنگ میں یہ فیصلہ ہونا تھا کہ آیا متحدہ پنجاب انڈیا کا حصہ ہونا چاہیے یا پھر مشرقی پنجاب کو انڈیا کا جبکہ مغربی پنجاب کو پاکستان کا حصہ بنایا جاۓ۔ اس حوالے سے مسیحی برادری کا یہ دعوی ہے کہ اگر اُس روز متحدہ پنجاب اسمبلی کے آخری سپیکر جناب ایس پی سنگھا صاحب، جو کہ ایک پنجابی مسیحی تھے، اپنا کاسٹنگ ووٹ نہ ڈالتے تو لاہور یا پنجاب آج پاکستان کا حصہ نہ ہوتا۔ اسی دعوے کے زیر اثر مسیحیوں کی تحریریں پڑھ کر کئی مسلم دانشوروں نے بھی اس بات کو تاویل کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔
مسیحیوں نےپاکستان قیام میں کئی لحاظ سے کلیدی کردار ادا کیا تاہم ایس پی سنگھا کے کاسٹنگ ووٹ کی بابت دعوی کی حقیقت قدرے مختلف ہے۔سٹاک ہوم یونیورسٹی کے سابقہ پروفیسر سیاسیات ڈاکٹر اشتیاق احمد کے مطابق 3 جون 1947 کو برطانوی حکومت کے تقسیم ہند کے منصوبے میں یہ عندیہ دیا گیا کہ پنجاب اور بنگال کو تقسیم کیا جائےگا کیونکہ یہاں کی آبادی مسلم اور غیر مسلم حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ یہ بھی طے پایا کہ ان دونوں صوبوں کی اسمبلیوں میں مسلم اور غیر مسلم گروہوں میں الگ الگ ووٹنگ ہو گی اور کسی ایک گروپ کے تقسیم کے حق میں فیصلہ دینے پر اس صوبہ کو تقسیم کر دیا جاۓ گا۔
ڈاکٹر اشتیاق کہتے ہیں کہ 23 جون 1947 کومتحدہ پنجاب اسمبلی میں ہونے والی کاروائی کے دوران 91 ووٹ صوبےکو تقسیم کرنے کے حق میں پڑے جبکہ 77 اراکین نے پنجاب کو انڈیا کا حصہ رکھنے کے موقف کی حمایت کی۔ “مسیحی اور تحریکِ پاکستان” کے عنوان سے لکھی گئی کتاب کے صفحہ نمبر 30 پر 23 جون 1947 کو پنجاب اسمبلی میں ہونے والی کاروائی تحریر ہے۔ اس کتاب میں 168 ارکانِ اسمبلی کے نام دیے گئے ہیں جنہوں نے پنجاب کو تقسیم کے حق یا مخالفت میں ووٹ دیا۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر دونوں جانب سے کاسٹ کیے جانے والے ووٹ برابر ہی نہیں تھے تو آخر اسپیکر اسمبلی کو ووٹ ڈالنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
1947 میں شائع ہونے والے انڈین اینول رجسٹر کے مطابق:

پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپیکر دیوان بہادر ایس پی سنگھا (انڈین کرسچن) نے لابی میں جا کر نئی قانون ساز اسمبلی کے لئے اپنا ووٹ ریکارڈ کروایا۔ ارکانِ اسمبلی کی تقسیم کی لسٹ کے تجزیہ سے واضح ہے کہ سر خضر حیات خان کی رہنمائی میں یونینیسٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والےآٹھ مسلمان اراکین اسمبلی سمیت 88 مسلمان اراکین اسمبلی نے نئی قانون ساز اسمبلی کے لئے ووٹ ڈالے۔ ان کے ساتھ تین مسیحی اراکین اسمبلی – دیوان بہادر ایس پی سنگھا، فضل الہیٰ (انڈین کرسچن) اور مسٹر سی ای گبن (اینگلوانڈین) نے بھی مسلمانوں کے ساتھ ووٹ پنجاب کی تقسیم کے حق میں اپنے ووٹ کاسٹ کیے۔ تاہم سکھ، ہندواور شیڈول کاسٹ سے تعلق رکھنے والے ارکان نے اس موقف کی مخالفت میں ووٹ دیئے۔

اس بیانات سے دو باتوں کی تصدیق ہوتی ہے۔ اول یہ کہ پنجاب کی تقسیم کی کارروائی کے دوران ووٹ برابر نہیں ہوئے تھے لہذا سنگھا صاحب کا ووٹ “کاسٹنگ ووٹ/ فیصلہ کن ووٹ نہیں تھا۔ اور دوم یہ کہ اور ان تین مسیحی اراکین اسمبلی خصوصا مسیحی سپیکر کا پنجاب کی تقسیم کے حق میں ووٹ دینا مسیحیوں کے اس دعوے تصدیق کرتا ہے کہ انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر پاکستان کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔
چنانچہ جناب ایس پی سنگھا صاحب کا سپیکر ہونے کے باوجود پاکستان کے حق میں اپنا ووٹ کاسٹ کرنا ایک انتہائی غیر معمولی اقدام تھا جس کا مقصد علامتی طور پر پاکستان کی حمایت کا علی الاعلان اظہار کرنا تھا۔
آصف عقیل | لاہور