طبی امداد کی عدم فراہمی سے جابحق ہونے والے سینیٹری ورکر کی آخری رسومات ادا

عمر کوٹ چھور روڈ سیوریج نالہ کی صفائی کے دوران دم گھٹنے سے ہلاک ہونے والے سینیٹری ورکر عرفان مسیح کی آخری رسومات مقامی چرچ میں ادا کردی گئیں۔ اس موقعہ پر بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ عرفان مسیح کی سوگوار والدہ کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کو نالے میں گیس کی موجودگی کا خدشہ تھا اور اس میں جانے کو راضی نہ تھا۔ لیکن کیونکہ وہ سپروائزر تھا اس لئے اس کو دیگر تین ورکرز کے ہمراہ نالے میں اترنا پڑا۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ اس کو ٹاؤن کمیٹی کے عملہ نے زبردستی مین ہول میں اترنے پر مجبور کیا۔انہوں نے کہا کہ عرفان ہی ہمارے گھر کا کمانے والے تھا۔اب ہم اس سے محروم ہوگئے ہیں تو ہمیں فکر لاحق ہوگئی ہے کہ ہم کہاں سے خرچ پورا کریں گے۔ بیٹیوں کا ساتھ ہے ان کے اخراجات کون اٹھائے گا۔ادھرعرفان کے والد نے میڈیا سے گفتگو کہا کہ ہمیں انصاف چاہیے۔گزشتہ روز مین ہول کی صفائی کرتے ہوئے عرفان مسیح کی حالت خراب ہونے پر اسے سول ہسپتال لایا گیا تو ڈاکٹرز نے کہا کہ اس کے کپڑوں پر گندگی لکی ہے پہلے اسے نہلاؤ پھر علاج کریں گے۔ اسی دوران مناسب طبی امداد نہ ملنے پر عرفان مسیح دم توڑ گیا۔مسیحی برادری کے احتجاج پر ڈاکٹروں کیخلاف مقدمہ درج کر کے ایم ایس کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔اس پر سول اسپتال کے ڈاکٹر بپھر گئے اور ہڑتال کر دی۔ اسپتال کی او پی ڈی بند ہے۔یہاں علاج کے لئے آنے والے مریض شدید پریشان وبے حال ہیں۔ مریضوں کے ہمراہ آنے والےلواحقین بھی پریشان ہیں جن کو حیدرآباد جانے کا کہا جارہا ہے۔ایسے میں مریضوں کی مشکلات اور بڑھ گئی ہیں اورحکومت اس معاملہ پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ادھر پی ایم اے عمر کوٹ نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لئے اجلاس طلب کیا ہے جس میں ڈاکٹرز شریک ہونگے جس میں ہڑتال جاری رکھنے یا ختم کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ (آگاہی نیوز)

اپنا تبصرہ بھیجیں