پنجاب پولیس کا کھاریاں میں مسیحی مرد،عورتوں اور بچوں پربیہمانہ تشدد

کھاریاں میں نفری سمیت پولیس افسر کی جانب سے فادر کالونی کے رہائشی مسیحیوں پر مبینہ تشدد کا واقع پیش آیا،مقامی مسیحیوں کے مطابق پولیس اہلکاروں نے مسیحی خواتین،مردوں اور بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے مسیحیوں کیخلاف جھوٹے کیس بھی درج کیئے جس پر مسیحی برادری نے ذور دیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اس واقعے کا نوٹس لیں۔
اس واقعے کیخلاف آواز اٹھنے پر ڈی پی او گجرات نے ایکشن لیتے ہوئے ایس ایچ او تنویر عباس بھٹی کو معطل کردیا۔ تفصیلات کے مطابق اے ایس آئی محمد عظیم نے پولیس نفری کیساتھ فادر کالونی کی کرکٹ گراؤنڈ میں چھاپہ مارا،اور مقامی نوجوانوں پر الزام لگایا کہ وہ میچ پر جوا (شرط) لگا رہے ہیں۔ پولیس نے الزام کے تحت نوجوانوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جس پر مقامی لوگوں اور پولیس کے درمیان تصادم ہوگیا۔
لڑائی شروع ہونے پر علاقے سے پولیس واپس چلی گئی تاہم شام میں ایس ایچ او تنویر عباس بھٹی نے پولیس اور ایلیٹ فورس کی بھاری نفری فادر کالونی پر بھیجی۔ پولیس نے علاقے کا محاصرہ کرلیا اور مسیحیوں کے گھروں میں زبردستی داخل ہوکر مسیحی مرد ،خواتین اور بچوں کو بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا،مزید برآں پولیس اہلکاروں نے رہائشیوں پر گولیاں بھی چلائیں جس سے کئی زخمی ہوئے۔
متاثرہ مسیحی برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف اس واقعے کا نوٹس لیں اور ملزمان کیخلاف کاروائی عمل میں لائیں۔مقامی مسیحی خاتون نے مزید بتایا کہ پولیس کی جانب سے ہم پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔ دوسری جانب پولیس نے یہ موقف اپنایا ہے کہ ہم نے مجرموں کیخلاف آپریشن کیا تھامقامی افراد نے آپریشن متاثر کیا جس وجہ سے انہوں نے لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔پولیس نے مزید کہا ہے کہ آپریشن کے دوران پولیس پر مقامی افراد نے حملہ کیا جس سے 4پولیس اہلکار زخمی ہوئے جس کی تحت فادر کالونی کے مسیحیوں کیخلاف ایف آئی آر نمبر34/17درج کی گئی جس میں 18مسیحیوں کو نامزد کیاگیا ہے۔
مسیحی منشیات فروشوں کیخلاف آپریشن چاہتے ہیں تاہم پولیس اہلکاروں کو معصوم شہریوں کیخلاف جھوٹے کیس نہیں بنانے چاہئیں۔ مسیحیوں کی جانب سے فادر کالونی میں اس غیرقانونی آپریشن کی مذمت کی گئی ہے جس میں بے قصور مسیحی رہائشیوں پر تشدد اور ہراساں کیا گیا۔