‏مسیحی خبریں

حافظ آباد: جبری مذہب تبدیلی کا شکار ہونے والی مسیحی بچی بازیاب

کچھ عرصہ قبل اغوا کے بعد جبری مذہب تبدیلی کا شکار ہونے والی 14سالہ مسیحی بچی کو آخر بازیاب کرالیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ایک خیراتی ادارے CLAASکی بدولت یہ سب ممکن ہوسکا۔متاثرہ بچی 14سالہ سنبل کو مبینہ طور پر پولیس افسر اے۔ایس۔آئی منیر احمد نے اپنے شکنجے میں قید کررکھا تھا۔ حافظ آباد کے سٹی پولیس تھانے کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے۔ایس۔آئی) منیر نے جبری اور غیرقانونی طور پر پچھلے چھ ماہ سے سنبل کو اپنے پاس قید رکھا۔ متاثرہ بچی کی والدہ الزبتھ کی جانب سے CLAASسے رابطہ کیا گیا کہ وہ اس معاملے میں قانونی مدد کریں۔
CLAASپاکستان کے نیشنل ڈائریکٹر ایم۔اے۔جوزف نے متاثرہ بچی کی بازیابی کیلئے سرگرمیاں شروع کردیں۔ 26اپریل2017کو CLAASکے وکیل طاہر بشیر نے لاہور ہائیکورٹ سے سنبل کی بازیابی کیلئے رابطہ کیا۔ عدالت نے کاروائی کرتے ہوئے اگلے ہی روز27اپریل کو متاثرہ بچی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ جس پر سنبل کو پولیس افسر منیر احمد کے گھر سے بازیاب کرایا گیا۔
متاثرہ بچی سنبل اپنی ہمسائی مریم کی دوست تھی جو کہ منیر احمد کی رشتہ میں سالی لگتی ہے۔ چونکہ دونوں بچیوں میں دوستی تھی جس پر وہ ایک دوسرے کے گھر پر آیا جایا کرتی تھیں۔ تفصیلات میں یہ سامنے آیا ہے کہ سنبل کا اپنے گھر پر جھگڑا ہوا جس پر وہ مریم کے گھر پر چلی گئی اور سارا دن وہیں گزارا۔شام کو سنبل کی والدہ الزبتھ نے اسے گھر واپس لایا لیکن بعدازاں رات کو منیر احمد سنبل کے گھر پر آیا اور زبردستی اسے اپنے ساتھ لے گیا۔ منیر نے سنبل کی والدہ اور بھائیوں کو بھی مارا جنہوں نے اسے ایسا کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔ الزبتھ نے منیر احمد کے خلاف سٹی پولیس تھانہ حافظ آباد میں شکایت درج کرائی۔ کئی کاوشوں کے بعد بھی منیر نے الزبتھ کو اسکی بیٹی سنبل سے ملنے نہیں دیا۔
متاثرہ بچی کی والدہ نے علاقے کے فادر مشتاق پیارا سے رابطہ کیا اور انہیں اس واقعہ سے متعلق آگاہ کیا۔ فادرمشتاق کی جانب سے سٹی پولیس تھانے میں فون کیا اور درخواست کی کہ معاملے کو حل کیا جائے۔ تاہم دونوں خاندانوں کو پولیس نے طلب کرلیااور سنبل کو پیش کرنے کے احکام دیے۔ منیر احمد کی جانب سے یہ موقف اپنایا گیا کہ بچی نے اسلام قبول کرلیا ہے اور وہ اپنے گھر کو واپس نہیں جانا چاہتی۔ وہ اپنی والدہ کے گھر نہیں بلکہ میرے گھر پر رہنا چاہتی ہے۔ منیر نے کہا کہ سنبل کا مذہب تبدیلی کے بعد نیا نام فاطمہ رکھا گیا ہے۔
اس معاملے سے متعلق CLAAS-UKکے نیشنل ڈائریکٹر ناصر سید نے کہا کہ ایسے واقعات میں متاثرہ بچیوں کو انکے خاندان اور انکی اپنی جان سے متعلق دھمکایاجاتا ہے اگر وہ واپسی کا سوچتی ہیں تو، بین الاقوامی اور ڈومیسٹک قوانین کے مطابق نابالغ بچیوں کے بیان تسلیم نہیں کئے جاسکتے۔پاکستان میں مسیحی اور دیگر اقلیتی مذاہب کی بچیوں کے اغوا سمیت مذہب تبدیلی کے واقعات کوئی عام بات نہیں اور یہ واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔ ادارہ CLAASنہ صرف ایسے کئی متاثرین خاندان اور بچیوں کی مدد کررہا ہے بلکہ پچھلے کئی سال سے ایسے مسائل کو روکنے کیلئے مہم چلا رہا ہے۔

Related Articles

Back to top button