‏مسیحی خبریں

بھٹہ مالک نے مسیحی مزدور کو اغواہ کرلیا،بھاری تاوان کا مطالبہ

ضلع قصور میں بھاری تاوان کے لالچ میں ایک بھٹہ مالک نے 35سالہ مسیحی مزدور کو اغوا کرلیا۔ سلیم مسیح جو کہ اغواہ کار کے بھٹے پر کام کررہا تھا اسے بھٹہ مالک شیخ مصطفی نے مبینہ طور پر اغوا کرلیا۔ برٹش پاکستانی کرسچیئن ایسوسی ایشن (BPCA) نے تفصیلات میں بیان کیا کہ سلیم مسیح نے قریب ایک سال قبل بھٹہ مالک سے 10000 روپے کا قرض لیا تھا۔ سلیم مسیح نے شیخ مصطفی کے بھٹے پر کام کرنے کا معاہدہ کرلیا۔ اس معاہدے کے مطابق سلیم اور اسکی بیوی کو بھٹے پر ایک سال کام کرنا تھا جسکے بعد انہیں دیا گیا قرض محنت کے بدلے ختم ہوجائے گا۔
مسیحی جوڑے نے شیخ مصطفی کیلئے بھٹے پر ایک سال تک کام کیا،معاہدے میں تہ کردہ دورانیہ مکمل کرنے کے بعد رات کے وقت سلیم اور اسکی بیوی نے بھٹہ چھوڑ دیا کیونکہ انہیں علم تھا کہ اگر بھٹہ مالک کو معلوم ہوگیا تو وہ انہیں جانے نہیں دیگا۔شیخ مصطفی کا بھٹہ چھوڑنے کے بعد انہوں نے ایک دوسرے بھٹے کا رخ کیا جہاں وہ پہلے بھی باڑے پر مزدوری کرتے تھے۔قریب تین مہینے بعد شیخ مصطفی کو انکا پتہ چل گیا اور وہ انہیں تلاش کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ 21اپریل 2017کو شیخ مصطفی نے سلیم مسیح کے گھر پر دو آدمی بھیجے،انہوں نے سلیم مسیح کو اسکی بیوی اور بچوں کے سامنے تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے ہراساں کیا۔ دونوں اشخاص سلیم کو اپنے ساتھ لے گئے اور اسکی بیوی کو دھمکی دی کہ سلیم کی رہائی کیلئے 40ہزار کا بندوبست کرے۔
سلیم مسیح کو بیوی نے اس واقعے سے متعلق پولیس کو رپورٹ کیا،تاہم پولیس نے ملزمان کیخلاف کیس دائر کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا،جس پر اداس اور مایوس خاتون نے برٹش پاکستانی کرسچیئن ایسوسی ایشن سے رابطہ کیا اور مدد کیلئے درخواست کی۔ادارے کی جانب سے بتایا گیا کہ سلیم کی بیوی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میں رو رو کر گڑگڑا کرروز دعا کرتی ہوں،مجھے نہیں معلوم کہ میرا شوہر ابھی زندہ بھی ہے کہ نہیں اور میرے بچے ہر وقت مجھ سے اپنے باپ کے بارے میں پوچھتے رہتے ہیں۔ میرے اور میرے بچوں کے سامنے میرے خاوند کو مارا پیٹا گیا۔ ہماری تکلیف تب تک کم نہ ہوگی جب تک سلیم واپس ہمارے پاس نہیں آجاتا۔
ہم نے ایک سال کام کرکے شیخ مصطفی کا قرض اتار دیا،ہم نے معاہدے کے مطابق بھٹہ چھوڑنے سے قبل قرض کی ادائیگی مکمل ہونے تک کا انتظار کیا کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ کوئی تیش میں آئے۔ ہم صرف ایک روشن مستقبل چاہتے تھے لیکن ظالم آدمی نے ہمار ی امیدوں کو تباہ کردیا۔

Related Articles

Back to top button
شیئر کریں