پاکستانی

محکمہ اقلیتی امور میں کروڑوں کی خوردبرد کا انکشاف

حکومت سندھ کی عدم توجہ اور لاپروائی کے باعث محکمہ اقلیتی امور میں مندروں کی مرمت،، غریبوں کے امدادی فنڈز، دفاتر کی تعمیر سمیت دیگر کاموں کے نام پر 32کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، مذکورہ محکمے کے ذمہ داران نے سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں خالی ورکنگ پیپر پیش کردیئے۔اجلاس کے دوران محکمہ آڈٹ نے بھی اعتراضات اٹھائے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ میں متعدد محکموں میں کرپشن کی گونج ہے، حکومت کرپشن کے خاتمے کے لئے سنجیدہ نہیں جس کی وجہ سے قومی خزانے کو کرپٹ بیورو کریٹس دیمک کی طرح چاٹ ر ہے ہیں، جس میں صوبائی محکمہ اقلیتی امور بھی شامل ہے، مذہبی تہواروں، دفاتر کے اخراجات کے لئے مختص بجٹ و فنڈز میں کرپٹ افسران نے کروڑوں روپے کی مبینہ خرد برد کرلی ہے،جنگ کو موصول ہونے والی دستاویزات و معلومات کے مطابق سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں مذکورہ محکمے کی 2014اور 2015کی آڈٹ رپورٹ پیش کی گئی جس کی صدارت پی ای سی کے چیئرمین سلیم جلبانی کر رہے تھے۔اجلاس میں پیش کردہ آڈٹ رپورٹ میں محکمہ اقلیتی امور میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگیوں اور کرپشن سمیت دیگر غیرقانونی سرگرمیوں کی نشاندہی کی گئی۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق سابق صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور موہن لال، سیکریٹری بدر جمیل مندھرو، پتمبر سیہوانی، سلیم خورشید کھوکھر اور ہریش کمار کے ادوار میں صوبے میں مندروں کی مرمت، غریبوں کے لئے آنے والے فنڈز و امداد، مینارٹیز کے دفاتر کی از سر نو تعمیر ظاہر کرکے 32 کروڑ 54 لاکھ 40 ہزار روپے کی بے ضابطگیاں کی گئیں۔ آڈٹ پیرا میں بتایا گیا کہ 120 ملین کے فنڈز غیرقانونی طور پر نکالے گئے جبکہ ڈی ڈی اوز کے اکاؤنٹ میں بھی غیر قانونی طور پر 3 کروڑ 65 لاکھ روپے جمع کرائے گئے۔ اجلاس کے دورا ن آڈٹ رپورٹ کی ایک اور پیرا میں نشاندہی کی گئی کہ SPPRA کے قانون 2010کے مطابق پروکیورنگ ایجنسیز ٹھیکوں کی نیلامی کے نتائج ویب سائٹ پر رکھنے کی پابند ہیں مگر اس میں بھی نااہلی کرکے کروڑوں روپے کا بجٹ خورد برد کردیا گیا، جبکہ اخراجات جس میں دفاتر کی تزئین و آرائش، کمپیوٹر، بجلی اور دیگر ساز و سامان کی خریداری ٹینڈر کے بغیر کی گئی، جس پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کی جانب سے اقلیتی امور کے ذمہ داران سے تفتیش کی گئی۔ذرائع کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین سلیم جلبانی کی جانب سے سیکریٹری اقلیتی امور فارق اعظم سے ریکارڈ طلب کیاگیا تھا، بجائے کاغذات پیش کرنے کے مذکورہ سیکریٹری نے خالی ورکنگ پیپر پیش کئے اور ریکارڈ سمیت دیگر مطلوبہ معلومات دینے کے بجائے اجلاس میں ہونے والے سوالات کے بھی خاطر خواہ جوابات نہ دے سکے جس پر پی اے سی کے چیئرمین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے 15روز کی مہلت دیتے ہوئے سیکریٹری کو ریکارڈ اور افسران سمیت طلب کرلیا ہے۔ (آگاہی نیوز)

Related Articles

Back to top button
شیئر کریں