پاکستانی

17 سالہ مسیحی نوجوان کا قتل؛ قاتل تاحال فرار

کرسچین ٹائمز کی خبر کے مطابق ایک پاکستانی کرسچن فیملی ابھی تک اس سوال کا جواب ڈھونڈ رہی کہ آخر ان کے لخت جگر کو کیوں قتل کیا گیا؟ مقتول عدنان مسیح کی لاش رواں ماہ 4 نومبر کو برآمد ہوئی تھی اور اس کے گلے کو بری طرح سے کاٹ کر اسے موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 17 سالہ عدنان مسیح نشے کی عادت میں مبتلا رہ چکا تھا لیکن کچھ عرصہ قبل ہی اس نے اپنے گناہوں سے تائب ہو کر چرچ جانا شروع کر دیا تھا تاکہ اس لعنت سے چھٹکارا پا سکے۔ مقتول کے والد شوکت مسیح کا کہنا ہے کہ عدنان اپنی زندگی بدلنا چاہتا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ عدنان مسیح کے قتل میں اس کے دو دوست ملوث ہیں جو آخری مرتبہ اس کے ساتھ دیکھے گئے تھے۔ عدنان 3 نومبر کو تقریباً شام ساڑھے سات بجے گھر سے نکلا اور واپس نہیں آیا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق مقتول کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا تھا۔

برٹش پاکستانی کرسچن ایسوسی ایشن کے مطابق 3 نومبر کی رات عدنان کا ایک دوست شانی اس کے گھر آیا اور باہر چل کر کچھ کھانے کی ڈیمانڈ کی۔ عدنان مسیح نے جانے سے انکار کیا لیکن اس کا دوست بضد رہا جس کے بعد اس کے ساتھ جانے کی حامی بھر لی۔ عدنان کا بھانجا جو یہ سارا واقعہ دیکھ رہا تھا کہتا ہے کہ ان کے گھر کے باہر ایک ٹیکسی کھڑی تھی جس میں علی نامی ایک مسلم نوجوان بھی موجود تھا۔ اس کے بعد تینوں گاڑی میں بیٹھے اور وہاں سے چلے گئے۔ رپورٹس کے مطابق تینوں کو آخری مرتبہ ایک مقامی پارک میں دیکھا گیا لیکن اس کے بعد عدنان کے ساتھ کیا ہوا؟ پولیس اس بات کا ابھی تک سراغ لگا رہی ہے۔

پولیس نے عدنان مسیح کے قتل کے شبہ میں اس کے دونوں دوستوں شانی اور علی کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی تھی لیکن انھیں بیان ریکارڈ کیے بغیر ضمانت پر رہا کرنا پڑا۔ برٹش پاکستانی کرسچن ایسوسی ایشن کی افسر مہوش بھٹی کا اس کیس کے حوالے سے کہنا ہے کہ مقتول عدنان کا ایک دوست علی مسلم ہے لیکن شانی کے مذہب کے بارے میں ابھی ابہام ہے۔ ادھر بی پی سی اے کے چیئرمین ولسن چودھری کا کہنا ہے کہ اگر عدنان کو علی نامی نوجوان نے قتل کیا ہے تو یہ گزشتہ 3 ماہ میں تیسرا موقع ہو گا کہ کسی کرسچن نوجوان کا مسلمان کے ہاتھوں قتل ہوا۔ مقتول کے والدین نے حکام سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے قاتلوں کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔ (کرسچین ٹائمز)

Related Articles

Back to top button
شیئر کریں