پاکستانی

آسیہ بی بی کیس کی سماعت جلد ہوگی:چیف جسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ مبینہ توہین رسالت کیس میں ملوث آسیہ بی بی کیس کی سماعت جلد کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں جلد بینچ تشکیل دیں گے۔لاہور رجسٹری میں ازخود نوٹسز کیس کی سماعت کے دوران انہوں نے ملتان جیل موت کی کوٹھری میں قید آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ تیار ہوجائیں، تیاری پکڑیں آسیہ بی بی کیس کی سماعت جلد ہوگی۔چیف جسٹس نے آسیہ بی بی کے وکیل کی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کے نتیجہ میں واپس لی جانے والی سیکورٹی کی بحالی کا حکم بھی جاری کیا۔

وکیل سیف الملوک نے چیف جسٹس سے استدعا کی تھی کہ وہ اس حساس کیس میں آسیہ بی بی کی پیروی کررہے ہیں جس پر انکو خطرات کا سامنا ہے اور ان سے سیکورٹی واپس لے لی گئی ہے۔واضح رہے کہ آسیہ بی بی کو مقامی سیشن عدالت سے سزائے موت اور بعدازیں لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے سزاء برقرار رکھے جانے پر موت کا سامنا ہے۔ کیس کی آخری سماعت موجودہ چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم بینچ نے اکتوبر 2016 خ س میں کی تھی۔وکیل سیف الملوک نے میڈیا کو بتایا کہ چیف جسٹس نے ان کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ وہ جلد اس کیس کی سماعت کے لئے بینچ تشکیل دیں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ خود اس بینچ کی سربراہی کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اعلان ان کے لیے غیر متوقع تاہم انتہائی خوش گوار تھا۔اپنی سیکورٹی کی بحالی کے حوالہ سے ان کا کہنا تھا کہ میری اس جانب توجہ دلوانے پر چیف جسٹس کا کہنا تھا وہ سیف الملوک کو ذاتی طور پر جانتے ہیں اور یہ کہ اگر کوئی سکیورٹی دیئے جانے کا مستحق ہے تو وہ ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک سے دو ہفتہ کے عرصے میں سماعت کے لیے وقت مقرر ہونے کے امکانات ہیں۔خیال رہے کہ شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والی آسیہ بی بی کو توہینِ رسالت کے ایک مقدمے میں شیشن جج ننکانہ صاحب نے 2010 خ س میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

سزا کے خلاف ان کی کئی اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں جبکہ گذشتہ برس سپریم کورٹ میں ان کی اپیل پر سماعت کرنے والا تین رکنی بینچ ٹوٹ گیا تھا۔بنچ کی سربراہی چیف جسٹس ثاقب نثار کر رہے تھے جبکہ اس میں شامل جسٹس حمید الرحمٰن بینچ سے دستبردار ہو گئے تھے۔ اس کے بعد سے آسیہ بی بی اپیل پر سماعت مقرر ہونے کی منتظر ہیں۔سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں آسیہ بی بی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ بے گناہ ہیں۔ آسیہ بی بی کے مقدمہ پر پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ کی نظریں مرکوز ہیں۔ (س،م)

Related Articles

Back to top button
شیئر کریں