پاکستانی

پاکستانی لڑکیوں سے جسم فروشی کرانے والے چینی گینگ سے متعلق مزید انکشافات

گینگ کا سرغنہ پاکستانی لڑکیوں سے شادی کرانے کے عوض 18 سے 35 لاکھ روپے وصول کرتا

غریب مسیحی گھرانوں کی لڑکیوں کو شادی کا جھانسہ دے کر اُن سے چین میں جسم فروشی کرانے والے گینگ کے بارے میں مزید انکشاف سامنے آئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق اس دھوکے باز گینگ کا سربراہ ایک چینی باشندہ ژن شیان تھا جو جھنگ کے علاقے حویلی بہادر شاہ میں ایک پاور پراجیکٹ پر کام کرنے کے سلسلے میں پاکستان آیا تھا۔ تاہم پراجیکٹ کی تکمیل کے بعد اُس نے وطن واپسی اختیار نہ کی بلکہ اگست 2018ءمیں اپنے برادر نسبتی وینگ پینگ کو پاکستان بُلوایا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے گھناﺅنے منصوبے پر عمل کرنے کے لیے ایک گینگ تشکیل دیا۔یہ گینگ غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والی پاکستانی مسیحی لڑکیوں کی چینی شہریوں سے شادی کروا کر انہیں اسمگل کرتا تھا۔

ژن شیان کی اہلیہ اور اس کا والد چین میں ایک شادی دفتر چلاتے تھے۔ وہ چین سے چینی لڑکوں کی تصاویر ’وی چیٹ‘ ایپلی کیشن کے ذریعے مقامی ایجنٹس کو بھجواتے تھے۔ مقامی ایجنٹس یہ تصاویر پاکستان کے مختلف شہروں میں موجود مسیحی گھرانوں کو دکھا کر اُنہیں اپنی لڑکیاں ان لڑکوں سے بیاہنے کے لیے رضا مند کرتے۔ یہ دھوکے باز گینگ چینی لڑکوں سے فی شادی 18 سے 35 لاکھ کی بھاری رقم وصول کرتا تھا۔ جبکہ مقامی ایجنٹس کو رشتہ کروانے کے بدلے 50 سے 70 ہزار روپے دیے جاتے تھے۔

گینگ کا سرغنہ اور اس کا بہنوئی وینگ پینگ دونوں غریب علاقوں کے گرجا گھروں میں جاتے تھے اور مسیحی خاندانوں کو اس بات کی یقین دہانی کرواتے تھے کہ چینی لڑکے بھی مسیحی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔اس شادی کے تمام اخراجات دلہا ادا کرتا تھا اور اپنے سسرالیوں کو بھی اس شادی کے بدلے بھاری رقم دیتا تھا۔ چینی دُلہے کی عارضی رہائش کے لیے فیصل آباد کے علاقے ایڈن گارڈن میں اس گینگ نے 30 ہزار روپے ماہانہ کرایے پر مکان حاصل کر رکھا تھا جہاں یہ خود کو ایک تعمیراتی منصوبے کے کارکن ظاہر کرتے تھے۔
حتیٰ کہ انہیں مقامی پولیس کی جانب سے سیکیورٹی بھی فراہم کی گئی۔چینی دُلہے جب تک اپنی ’بیویوں‘ کے ہمراہ واپس چین نہیں چلے جاتے اس وقت تک ژن شیان انہیں ایک ہزار سے 5 ہزار روپے روزانہ کرایہ دیتا تھا۔ یہ سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے فیصل آباد، لاہور اور راولپنڈی میں چھاپے مار کر گینگ کے کچھ کارندوں کو گرفتار کیا ہے جس میں چینی شہری اور ان کے پاکستانی سہولت کار بھی شامل ہیں۔

ایف آئی اے ذرائع کے مطابق فیصل آباد کے علاقے پیپلز کالونی کی ڈی گراؤنڈ سے کچھ چینی شہریوں کو اور ان کے معاونین کو ایک شادی کی تقریب سے گرفتار کیا گیا، جن سے تفتیش کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ یہ سب ایک گینگ کا حصّہ ہیں۔ اس گینگ کے مقامی سہولت کار چینی لڑکوں کودولت مند ظاہر کر کے غریب گھرانوں کو ان کی بیٹیوں کی شادی چینی شہریوں سے کرانے پر راضی کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔

ذرائع کے مطابق مزید مقامی ایجنٹس کو آئندہ دِنوں میں گرفتار کیے جانے کا امکان ہے۔واضح رہے کہ لڑکیوں کی چین اسمگلنگ کا یہ کاروبار صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دیگر ممالک میں بھی کیا جارہا ہے۔میانمار، کمبوڈیا، لاﺅس، شمالی کوریا اور ویت نام سے بھی لڑکیوں کو شادی کا جھانسہ دے کر چین لایا گیا، جہاں اُن سے عصمت فروشی کرائی جاتی رہی۔

Source
UrduPoint

Related Articles

Back to top button
شیئر کریں