ننکانہ واقعہ میں انفرادی شخص نے انتشار پھیلانے کی کوشش کی

حکومت نے جس طرح واقعہ پر ایکشن لیا وہ قابل تعریف ہے:قائدین بین المذاہب

سکھ برادری کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے بین المذاہب قائدین کا وفد نولکھا چرچ لاہور سے ننکانہ کیلئے روانہ ہو گیا۔ وفد میں صوبائی وزیر انسانی حقوق اعجاز عالم آگیسٹین،کل مسالک علماء بورڈ کے سربراہ مولانا محمد عاصم مخدوم،پریسبٹرین چرچ آف پاکستان کے ماڈریٹر ڈاکٹر مجید ایبل، پادری شاہد معراج،سردار کلیان سنگھ کلیان ،مفتی قاسم محمود،مفتی عاشق حسین منہاج القرآن انٹرفیتھ ریلیجنز افئیر کے ڈائریکٹر سہیل احمد رضا سمیت تمام مذاہب کے قائدین شامل ہیں ،بین المذاہب قائدین ننکانہ جا کر سکھوں سے اظہار یکجہتی کریں گے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کل مسالک علماء بورڈ کے سربراہ عاصم مخدوم نے کہا کہ ننکانہ واقعہ میں انفرادی شخص نے انتشار پھیلانے کی کوشش کی ، اسلام بھائی چارہ ،مساوات اور برابری کا درس دیتا ہے،ہم نے سکھ برادری کو پیغام دینا ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں پوری قوم ان کے ساتھ ہیں۔

سکھ رہنما ء کلیان سنگھ گلیان نے کہا کہ کرسچن برادری کے تمام علماء نے سکھوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے جس طرح اس واقعہ پر ایکشن لیا وہ قابل تعریف ہے ،ننکانہ صاحب میں ہمارا وفد جائیگا تو وہاں کے سکھوں میں اعتماد بڑھے گا ۔ ماڈریٹر پریسٹرین چرج مجید ایبل نے کہا کہ پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے،ہمیں پاکستان کا روشن چہرہ دنیا کو دیکھانا ہے۔ پادری شاہد معراج نے کہا کہ ہم پاکستانی ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں،نفرت پھیلانے والے تھوڑے لوگ ہیں ۔انہوں نے کہاکہ پاکستانی مسیحی ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ اقدام کی بھی پر زور مذمت کرتے ہیں ،امریکہ نے دنیا کی ایک بہت بڑی آبادی کو دکھ میں مبتلا کر دیا ہے، ہم انتہا پسندی کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔