پاڑا چنار میں پہلی مسیحی خاتون ٹیچر

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع میں سے ضلع کرم کے صدر مقام پاڑا چنار میں تاریخ میں پہلی بار مسیحی خاتون ماریہ کمال کو بطور استاد بھرتی کیا گیا ہے۔
اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ماریہ کمال نے بتایا کہ ’میری تعیناتی سے میری کمیونٹی اور رشتہ داروں سے زیادہ خوشی میرے علاقے کے مسلم افراد کو ہوئی ہے۔‘
پاڑا چنار سے تعلق رکھنے والے کمال مسیح کی 23 سالہ بیٹی ماریہ کمال شادہ شدہ اور دو بچوں کی ماں ہیں۔ والدین نے بی اے کرنے کے بعد شادی کر دی لیکن اپنی بیٹی کے تعلیم حاصل کرنے کے شوق کو رکنے نہیں دیا۔
شادی کے بعد بھی ماریہ کمال کی والدہ کو اپنی بیٹی کی تعلیم کی فکر رہتی تھی۔ وہ اپنی تعلیم آگے بڑھانے کے لیے نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی کرتی رہیں بلکہ ایم اے کرنے کے لیے امتحانی فیس اور کتابوں کا خرچہ بھی اپنی ضروریات میں سے پیسے بچا بچا کر بیٹی کو دیا۔
ٹیلی فون پرانٹرویو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ماریہ کمال کئی مرتبہ جذباتی ہوئیں۔انھوں نے بتایا کہ ’والد ساری زندگی محنت مزدوری کرتے رہے۔ گھر کے اخراجات پھر بھی پورے نہیں ہوتے تھے۔ اس کے باوجود والد اور والدہ نے پڑھائی میں ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی۔ جس وجہ سے میں ایم اے پولیٹیکل سائنس کرنے میں کامیاب ہوئی۔‘

ماریہ نے کہا کہ ’جب والد کی کمائی سے گھر اور میری تعلیم کا خرچ چلانا مشکل ہوگیا تو میں نےٹیوشن پڑھانا شروع کر دی۔ ٹیوشن پڑھنے کے لیے میرے پاس صرف مسیحی بچے ہی آتے تھے۔ اس لیے میں نے پرائیویٹ سکول میں ملازمت کی جس سے بس گزارا ہو جاتا تھا۔ تب ہی میں نے عزم کیا تھا کہ علاقے کی سب سے پہلی غیر مسلم ٹیچر بن کر رہنا ہے اور کوشش شروع کر دی۔‘

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر پاڑا چنار کی جانب سے ماریہ کمال کی تعیناتی کے احکامات میں انھیں گریڈ 12 میں بھرتی کیا گیا ہے تاہم ان کی تنخواہ اس وقت ملنا شروع ہوگی جب متعلقہ محکموں سے ان کی اسناد کی تصدیق ہوگی۔
ماریہ ان دنوں گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول مولا باغ میں دوسری، تیسری اور چوتھی جماعت کے بچوں کو پڑھاتی ہیں اور مستقبل میں کالج میں بطور لیکچرار بھرتی ہونے کی خواہش مند ہیں۔

جب ماریہ سے یہ پوچھا گیا کہ ان کے منتخب ہونے کی خبر سننے کے بعد ان کے گھر والوں کے کیا جذبات تھے تو انھوں نے بتایا کہ ’جب میری سلیکشن ہوئی اور میں نے اپنے والدین کو آگاہ کیا تو ان کی خوشی ناقابل بیان تھی لیکن میری تعیناتی پر مسیحی کمیونٹی سے زیادہ پاڑا چنار کے مسلم عمائدین خوش ہوئے۔ ہر ایک نے مبارک باد دی اور بہت زیادہ سراہا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بی اے تک تو میں کالج جاتی رہی ہوں لیکن یونیورسٹی نہیں جا سکی تھی اور میں نے پرائیویٹ امتحان دیا تھا۔ سنہ 2016 میں شادی ہوئی تو اس کے بعد تعلیم جاری رکھنے میں شوہر نے مدد دی تاہم فیس وغیرہ والدہ نے دی تھی۔‘
ماریہ نے بتایا کہ ’میرے شوہر ہارون مسیح میری تعیناتی پر اس لیے بھی خوش ہیں کہ ان کے پاس بھی ان دنوں نوکری نہیں ہے۔ اب مجھے انتظار ہے کہ میری اسناد کی جلد از جلد تصدیق ہو جائے اور تنخواہ لگ جائے۔ ابھی تو میں آنے جانے کا کرایہ بھی اپنی جیب سے لگانے پر مجبور ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میرے دو بچے ہیں ایک سکول جاتا ہے جبکہ دوسرا ابھی کچھ عرصے بعد داخل ہوگا۔ ہم میاں بیوی کی خواہش ہے کہ انھیں بھی اعلی تعلیم دلوا کر اچھا شہری بنائیں۔‘
پاکستان میں اقلیتوں کی صورت حال کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ماریہ کمال نے کہا کہ ’ممکن ہے کہ ملک کے دیگر حصوں میں مسیحی برادری کو کچھ مشکلات ہوں لیکن پاڑا چنار میں ہماری جان مال عزت آبرو محفوظ ہے۔‘
اس حوالے سے پاڑا چنار ضلع کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نعیم خان طورو نے اردو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ’پاکستان اور بالخصوص پاڑا چنار جیسے ضلع میں ایک خاتون اور وہ بھی مسیحی خاتون کی تعیناتی خوش آئند بات ہے۔ اس سے اقلیتوں میں اچھا تاثر جائے گا۔‘

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’پاڑا چنار اور کرم ضلع میں خواتین میں بھی شرح تعلیم بہتر ہے۔ اس لیے مسیحی خاتون کی تعیناتی پر کسی قسم کا کوئی منفی ردعمل نہیں آیا بلکہ علاقے کے سرکردہ افراد نے اس کو سراہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’یہ تعیناتی خالصتاً میرٹ پر ہوئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں