بھٹوں پر مزدوری کرنے والوں کے تعلیم فنڈز اس لئے ختم کیے گئے کہ وہ مسیحی ہیں

پنجاب اسمبلی (جون 25, 2021) کا اجلاس دو گھنٹے سات منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا،اجلاس کی صدارت اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے کی

وزیر ہائر ایجوکیشن اور سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کی عدم موجودگی پر اسپیکر برہم ہو گئے ، سپیکر پنجاب اسمبلی چوھدری پرویز الہیٰ نے کہا کہ منسٹر ہائر ایجوکیشن کو بلایا جائے جہاں بھی ہیں سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کا بھی اسمبلی میں آنا ضروری ہے نہ تو سیکرٹری موجود ہے نہ آپ خود یہاں موجود تھے

منسٹر ہائر ایجوکیشن نے دیر سے پہنچنے پر معافی مانگ لی ،جس پر سپیکر نے رولنگ دی کہ سیکریٹری کہاں ہے ، وزیر ہائیر ایجوکیشن نے کہا کہ سیکرٹری صاحب کا مجھے علم نہیں چیک کر لیتا ہوں

رانا مشہود احمد خان نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہائرایجوکیشن کے بارہ سیکرٹری تبدیل کئے ان سے پوچھیں ہیں کون ہے وہ،این ٹی ایس کے شفاف نظام سے دو لاکھ ٹیچرز کو بھرتی کیا تو قوم کے مستقبل کی تعمیر کررہے ہیں، ہم نےچونتیس بلین تعلیم کے شعبے میں رکھے تھے حکومت نے بجٹ کا سولہ ارب روپے بنایا جو پنجاب دشمنی کی بڑی مثال ہے،ان کا نہ فوکس نہ پنجاب کی عوام کو سہولیات دینا ہے اور نہ ہی تعلیم سے آراستہ کرنا ہے، ہم نے جنوبی پنجاب کا روڈ میپ طے کیا پنجاب کے دس ضلعوں میں سکول نہ جانے والے بچوں کو تعلیم دی،جنوبی پنجاب کے سکولوں لڑکیوں کو اخراجات نہ ہونے کی وجہ سےچھ بلین سے زائد سے چھ لاکھ بچیوں کو سکولوں میں لائے، ون ون ٹو ٹو کے پروگرام کے تحت تعداد کو بڑھایا، حکومتیں و ملک ترقی تب کرتے ہیں جب اچھی پالیسی جاری رہے،جنوبی پنجاب کی بچیوں کو تعلیم دینے کا عملی جامہ ن لیگ نے پہنایا،ادھر تالیاں بجانے والوں نے تعلیم کے بجٹ پرکٹ لگا لیا حقائق بتائوں گا تو یہ اپنا منہ نوچ لیں گے.

سکولوں میں ٹیلبٹ متعارف کروائے لٹریسی نومیریسی کو دنیا کی تنظیموں نے تسلیم کیا،پانچویں و آٹھویں کے امتحانات ختم کر دئیے گئے مستقبل کا کچھ نہیں پتہ میٹرک تک کتنے بچے پہنچتے ہیں،بھٹے پر کام کرنے والوں کے تعلیم کا فنڈز اس لئے ختم کیا گیا کہ وہ مسیحی ہیں، جنوبی پنجاب بسیرا میں سٹیٹ آف دی آرٹ سکول بناکر چار سو بچیوں کے ایک بیچ نے اولیول کیا، چھیانوے فیصد بچیوں نے اے پلس نمبرز لئے،بلوچستان کے بچوں کو حق تعلیم و یونیورسٹیوں میں کوٹہ دیتے رہےوہ حکومت نے ختم کر دیا،پنجاب سکول سپورٹ پروگرام سے پینتالیس خراب سکولوں کو پرائیویٹ سکولوں سے معاہدہ کروایاپنجاب ایجوکیُشن انیشیٹیو اتھارٹی بنائی یہ ان کے اساتذہ کو پیسے نہیں دے رہے ،پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن پر کٹ لگا دیا پارٹنرز سکولوں میں گھپلا ہورہاہے،پنجاب دشمن کے بعد پنجاب تعلیم دشمنی بھی عوام کے سامنے آ چکی ہے ،

ن لیگی رکن اسمبلی گلناز شہزادی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نون لیگ کے دور میں 4 ہزار سے زائد سکول بنائے گئے۔موجودہ حکومت نے ای لائبریری کو ختم کر دیا یے۔ شہباز شریف کے دور میں ساڑھے سات لاکھ سے زائد سٹوڈنٹس کو لیب ٹاپ دئیے گئے۔وہ لیب ٹاپ کورونا کے دوران سٹوڈنٹس کے کام آئے۔ تبدیلی سرکار کو بھی اچھے منصوبوں کا خیر مقدم کرنا چاہئیے۔ کوویڈ میں حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے نو ہزار سٹوڈنٹس سکول چھوڑ گئے۔بجٹ میں ایک بھی یونیورسٹی اسٹیبلش کرنے کا ذکر نہیں ہیں۔ سابق حکومت کے دور میں سکالر شپ کے پرو گرام شروع کیے گئے۔ آج پی ٹی آئی حکومت نے سکالر شپ کے پرو گرام ختم کردئیے ہیں۔

صوبائی وزیر مراد راس نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دس سال ان کی حکومت رہی انہیں کے کاموں کے بارے میں بتاوں گا۔اپنے بچوں کے بارے میں صفر اور باہر کی دنیا کے لوگوں کو اپروچ کیا گیا۔ آنکھ بند کرکے تعلیمی اداروں کو بیرون ممالک کے افراد کے سپرد کر دیا۔ پیف پروگرام کو ہماری حکومت 19 ارب روپے دے دئیے ہیں۔ ہم نے 26 لاکھ بچوں کو بے فارم کے ذریعے نشاندی دہی کی یے۔ پیف کے ذریعے جعلی سٹوڈنٹس کو بھرتی کیا گیا۔ پیف کے ذریعے جو مافیا تھا اسے تکلیف ہو رہی ہے۔ہم نے تعلیم گھر کھولا ایک لاکھ بیس یزار ٹیچرز رجسٹرڈ کیے 1200 پہلے سکول اپ گریڈیشن کیے سات ہزار مزید سکول اپ گریڈیشن کرنے جا رہے ہیں۔ ان کے طریقے کار پہ جاتے تو 95 ارب روپے نہ بچا سکتے۔ ایک شہر کیلئے ٹرین چلائی جس پر 2 سو 95 ارب روپے لگائے گئے۔ ایلمنٹری سکولز میں شام کے اوقات میں کلاسز کا آغاز کرنے جا ریے ہیں۔ سات لاکھ 34 ہزار بچے بے فارم کے ساتھ سکولز میں واپس لے آئیں ہیں۔

پانچ کے ایگزایم میں بچوں کو ٹیچرز چیٹنگ کروا ریے تھے۔ بچوں کو دس سال کی عمر میں نقل سیکھائی جا رہی تھی۔ جس کی وجہ سے ہم نے پانچویں کے بورڈ کے ایگزائم کو ختم کیا ہے۔ آگے ہم آٹھویں کے بورڈ کے ایگزائم کو ختم کرنے جا ریے ہیں۔ اپوزیشن نے کے دور میں سکول ایجوکیشن میں ویڈیو کال کا نظام نہیں تھا ایک ٹیچرز کے ٹرانسفر کیلئے ڈیرھ لاکھ تک رشوت لی جاتی تھی ای ٹرانسفر کے ذریعے ہم نے ٹیچرز کے ٹرانسفر کو آسان بنایا زیرو پیسے سے ای ٹرانسفر ایپ تیار کی ہے۔ آج ٹیچر گھر بیٹھ کر اپنے ٹرانسفر،ریٹائرمنٹ،اے سی آر کیلئے آن لائن اپلائی کر سکتا ہے۔ گذشتہ دس سالوں میں اپوزیشن نے کیوں کام نہیں کیا ہم نے 2000 سکولز میں کلاس روم بنائے ہیں۔ 400 سو ای لائبرییز ہم نے بنائی ہیں۔ پانچ سال بعد جب ہم چھوڑ کر جائیں گئے سارا سسٹم موبائل فونز پر ہوگا۔ن لیگ والے چاہتے ہیں عوام کو جاہل ریے آگے نہ بڑھیں اور انہیں ووٹ ڈالتے رہیں۔