فیصل آباد میں 14 سالہ مسیحی بچی کا گینگ ریپ

فیصل آباد کے علاقے ملکانوالہ میں 14 سالہ مسیحی بچی سنیتا مسیح ولد بشیر مسیح کو چند دن قبل کچھ با اثر مسلمان افراد کی جانب سے اغواء کیا گیا۔ 14 سالہ معصوم بچی کو اغواء کرنے کے بعد اس کا گینگ ریپ کر کے اس پر جسمانی تشدد کیا گیا ، اس کے سر کے بال بھی کاٹ دئیے گئے بعد ازاں اسے جبری طور مذہب بھی تبدیل کروا کر مسلمان کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ فیصل آباد کے نواحی علاقے ملکانوالہ میں پیش آیا۔ ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق با اثر ہونے کی وجہ سے ملزمان پر کوئی کاروائی نہیں کی تاہم سوشل میڈیا پر اس کے خلاف بھر پور آواز اٹھائی جارہی ہے۔

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے حکومت اور وزارت انسانی حقوق سے اس واقعے کا نوٹس لینے کی استدعا کی جارہی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ ہم دوسرے ممالک میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی بات تو کرتے ہیں مگر اپنے ملک میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم پر خاموش ہو جاتے ہیں۔

پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور اقلتیوں کے ساتھ ایسےجبری مذہب تبدیلی کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے تاہم کسی بھی موثر پالیسی کے تحت اس پر روک تھام نہیں کیا جارہا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں