معروف مسیحی گلوکار و غزل گائیک ایس بی جون دنیا سے رخصت

صدارتی ایوارڈ یافتہ معروف گلوکار و غزل گائیک سنی بینجمن جان المعروف ایس بی جون کے اہل خانہ نے گلوکار کے دنیا سے رخصت ہونے کی تصدیق کردی۔ایس بی جان کے انتقال سے متعلق 5 جون کو ابتدائی طور پر سوشل میڈیا اور بعض نیوز ویب سائٹس پر خبریں آئی تھیں لیکن بعد ازاں کراچی آرٹس کونسل کے چیئرمین نے ان کے انتقال کی خبروں کو جھوٹا قرار دیا تھا۔

گلوکار کی موت سے متعلق خبروں پر کئی لوگ پریشان بھی رہے، بعد ازاں 6 جون کو ان کے اہل خانہ نے تصدیق کی کہ ایس بی جان چل بسے۔

ایس بی جون کی عمر 90 برس تھی اور طویل العمری کی وجہ سے انہیں مختلف بیماریاں بھی لاحق تھیں۔ان کے بیٹے کے مطابق ایس بی جان قیامِ پاکستان سے قبل 1930 میں کراچی میں پیدا ہوئے اور یہیں سے تعلیم حاصل کی اور کم عمری میں ہی انہوں نے برنس روڈ پر قائم ’سنگیت ودیالا‘ اکیڈمی میں استاد پنڈت رام چندرا تریودی سے موسیقی کی تربیت لی۔موسیقی کی ابتدائی تربیت لینے کے بعد انہوں نے 1950 کے بعد انتہائی کم عمری میں ریڈیو پاکستان سے گلوکاری کا آغاز کیا، بعد ازاں 1959 سے انہوں نے فلموں کے لیے گلوکاری بھی شروع کردی۔کیریئر کے آغاز میں انہوں نے 1959 میں فلم ’سویرا‘ کے لیے ‘تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے’ گایا تو وہ مقبول ہوگئے اور پھر انہوں نے کئی فلموں میں آواز کا جادو جگایا۔ایس بی جون کو ان کی مختلف انداز میں غزل گائیکی کی وجہ سے شہرت ملی، ان کا شمار پاکستان کے 1960 سے 1975 کے معروف گلوکاروں اور غزل گائیکوں میں ہوتا ہے۔

ایس بی جون پاکستان کے چند مسیحی گلوکاروں میں سے ایک ہیں اور ان کا شمار ملک کے چوٹی کے غزل گائیکوں میں ہوتا ہے۔ایس بی جون کو ان کی گلوکاری کی خدمات کے عوض حکومت پاکستان نے 2011 میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا تھا اور انہیں اس وقت کے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے کراچی میں ایوارڈ دیا تھا۔ایس بی جون گزشتہ دو دہائیوں سے موسیقی کی دنیا سے دور ہیں لیکن انہیں موسیقی کی محفلوں میں بطور مہمان دیکھا جاتا رہا ہے۔