نائجیریا میں مسلح حملہ آوروں نے 140 طلبہ کو سکول سے اغوا کر لیا

نائجیریا میں مسلح حملہ آوروں نے ملک کے شمال مغربی علاقے سے کم از کم 140 طلبہ کو ان کے سکول سے اغوا کر لیا ہے۔

نائجیریا کے شہر زاریا سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کدونا شہر میں بیتھل باپٹسٹ سکول جانے والی ایک 15 سالہ طالبہ کی والدہ نے بی بی سی کو بتایا کہ بڑی تعداد میں مسلح افراد موٹربائیکس پر سکول پہنچے اور وہاں انھوں نے حفاظتی باڑیں توڑ دیں اور سکول میں داخل ہو کر بچوں کو اغوا کر لیا۔

پولیس کے بیان کے مطابق مسلح حملہ آوروں نے ‘سکول کے سکیورٹی گارڈز پر قابو پا لیا اور وہاں سے بچوں کے ہاسٹل تک گئے جہاں سے بچوں کو اغوا کر کے انھیں جنگل لے گئے۔’

تاہم پولیس نے بتایا ہے کہ ریسکیو آپریشن میں انھوں نے ایک خاتون ٹیچر سمیت 26 افراد کو اب تک بچا لیا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ کچھ دنوں میں ملک بھر میں سکولوں، یونیورسٹیوں اور دیگر مقامات سے اغوا برائے تاوان کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اتوار کی صبح کو شہر زاریا کے نیشنل ٹیوبرکلوسس اینڈ لیپروسی سینٹر سے آٹھ افراد کو اغوا کر لیا گیا تھا۔

اغوا کیے جانے والوں میں دو نرسیں اور ایک سال کا ایک بچہ بھی تھا۔

وہاں کے مقامی مسیحی رہنما نے کہا کہ سکول میں 180 بچے موجود تھے جس میں سے صرف 20 کو پتہ چل سکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ممکن ہے کہ چند بچے بھاگ جانے میں کامیاب ہو گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جو حملہ آور زاریا کے ہسپتال میں رونما ہونے والے اغوا کے واقعے میں ملوث ہیں وہ مقامی ڈاکوؤں کا گروہ ہے اور اس نے شہر میں پولیس سٹیشن پر بھی فائرنگ شروع کر دی تھی۔

پولیس کے مطابق جب سٹیشن پر حملہ جاری تھی تو اس وقت ایک دوسرے گروہ نے ہسپتال پر حملہ کر دیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی شہری نے بتایا کہ پولیس سٹیشن پر حملہ دھوکہ تھا اور اصل ہدف ہسپتال میں کام کرنے والے افراد تھے۔

ہسپتال کے عملے کے ایک فرد نے بی بی سی ہاؤسا کو نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملہ آوروں نے تین بچوں سمیت کم از 12 کو اغوا کر لیا ہے۔

حکومتی اہلکار نے کہا ہے کہ ان کی فوج اغوا ہونے والے افراد کو ڈھونڈنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔

دسمبر سے اب تک ایک ہزار سے زیادہ طلبہ کو اغوا کیا جا چکا ہے اور نو قتل کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ دو سو سے زائد طلبہ ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ان میں سے کم سے کم عمر والے بچے تین سال کے بھی ہیں۔

حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ملک کے شمال مغرب میں ہونے والے یہ واقعات ان جرائم پیشہ افراد کی جانب سے کیے گئے ہیں جن کا اصل مقصد تاوان کی رقم حاصل کرنا ہے۔

سات سال قبل نائیجریا کی ریاست بورنو سے چیبوک سیکنڈری سکول میں شدت پسند تنظیم بوکو حرام کی جانب سے 276 طالبات کو اغوا کیے جانے کے بعد سے مسلح حملہ آوروں نے طلبہ کو اغوا کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں