کرسچن میرج اور ڈائورس ایکٹ کو پارلیمنٹ سے پاس کرایا جائے

نیشنل لابنگ ڈیلیگشن فار منارٹی رائٹس نے مطالبہ کیا ہے کہ کرسچن میرج اور ڈائورس ایکٹ کو جلد مکمل کرکے پارلیمنٹ سے پاس کراکر مسیح برادری کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ختم کی جائے، حیدرآباد پریس کلب میں نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن فارمنارٹی رائٹس کے رہنماء ڈاکٹر صابر مائیکل، ایم پرکاش ایڈوکیٹ، کرشن شرما، پشپا کماری، چندر کمار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں اس وقت مسیحی برادری کا 1869 کا طلاق کا قانون لاگو ہے جبکہ شادی کے لئے 1872کے قانون پر عمل ہورہاہے جو کہ بہت پرانے قانون ہیں اس جدید دور میں اتنے پرانے قانون کا اطلاق انسانی حقوق کے خلاف ہے.

انہوں نے کہاکہ پرانے قانون میں لڑکی کی شادی کی عمر کی حد13سال مقرر ہے جوکہ ناانصافی ہے جبکہ طلاق کے لئے خواتین کو مردوں کے مقابلے میں کم حقوق حاصل ہیں جن سے خواتین کے حقوق متاثر ہورہے ہیں، انہوں نے کہاکہ وفاقی کابینہ نے 20اگست2019کو کرسچن میرج اینڈ ڈائورس ایکٹ کا مسودہ منطور کیا تھا جس پر آج تک عمل نہیں ہورہا،انہوں نے کہاکہ قانون میں ترمیم کرکے نیاایکٹ لاکرکے مسیحی لڑکیوں کو تحفظ فراہم کیاجائے اورفرسودہ قانون کو فوری ختم کیاجائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں