پاکستانی‏مسیحی خبریں

مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و بدامنی کیخلاف مسیحی رہنما جےسالک کا احتجاج

عوامی مسیحا پارٹی کے آرگنائزر جناب جےسالک نے مقبوضہ کشمیر میں معصوم کشمیریوں کیساتھ ہونے والے ظلم و ستم کیخلاف 13 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کیا۔ لگاتار 6 گھنٹے تک جاری اس احتجاج میں احتجاجی طور پر جے سالک مٹی میں بیٹھے رہے اور اپنے سر پر بھی مٹی ڈالی۔
اس موقع پر جے سالک کا کہنا تھا کہ مٹی کیساتھ احتجاج کرنے کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ انسانیت مٹی کے نیچے چھپ گئی ہے اور لوگوں کی آنکھوں میں بھی مٹی بھر گئی ہے اسی لئے انہیں اپنے بھائیوں کیساتھ ہونے والے ظلم وستم کی داستان دکھائی نہیں دے رہی،وہ صرف خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ تاریخ کا یہ سب سے تویل کرفیو ہے اوربھارتی مقبوضہ کشمیر میں یہ128دن سے جاری ہے،یہ معصوم اور نہتے کشمیریوں پر ظلم کی انتہا ہے۔
جے سالک نے کہا بھارت کو کشمیریوں پر ظلم وستم اور اس بدامنی کو بند کرنا ہوگا۔ اس موقع پر انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاپائے اعظم، کینٹربری کے بشپ، امامِ خانہ کعبہ اور باقی تمام اسٹیک ہولڈرز اقوام متحدہ پر دباؤ ڈالیں کہ کشمیر میں ہونے والے مظالم اور بدامنی فوری طور پر روکی جائے۔
حریت رہنما یاسین ملک کی بیوی مشعال یاسین ملک نے بھی اس احتجاج میں شرکت کی،انکا کہنا تھا کہ 125دن سے زائد ہوچکے ہیں کہ ابھی تک کشمیر میں کرفیو نافذ ہے اور 160افراد نے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ اسکے علاوہ کشمیر میں اقتصادی ناکہ بندی اور میڈیکل ایمرجنسی کی صورتحال ہے،کشمیریوں کے پاس ہسپتالوں میں ناکافی سہولیات ہیں اسکے علاوہ ڈاکٹروں کی کمی،ادویات ویکسینوں کی کمی اور دیگر ضرورتِ زندگی کی اشیاء کی کمی ہے۔ مشعال یاسین ملک نے مطالبہ کیا کہ کرفیو فوری طور پر ختم کیا جائے اور فورسز کو روکا جائے۔ مقبوضہ کشمر میں ہر کشمیری شہری کو اسکی آزادی کا حق دیا جائے۔

Related Articles

Back to top button
شیئر کریں