پاکستانی‏مسیحی خبریں

جھنگ: مسیحی برادری زہر آلود مضرِ صحت پانی پینے پر مجبور،انتظامیہ غیر سنجیدہ

جھنگ شہر کی کرسچن کالونی کی مسیحی برادری گند آلود مضرِ صحت پانی پینے پر مجبور ہے،مقامی مسیحیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ مسیحی برادری کیساتھ ایسا جان بوجھ کر اور انتخابات میں آزاد امیدوار کی نامزدگی کیلئے انتقامی کاروائی کے طور پر کیا جارہا ہے۔ اس علاقے میں قریب 530 مسیحی خاندان آباد ہیں۔
ایک مقامی مسیحی کے مطابق 1975 میں فادر بونی مینڈس نے یہ جگہ مسیحیوں کی رہائشگاہ بنانے کیلئے خریدی تھی،انہوں نے ہی اس کرسچن کالونی کی بنیاد رکھی تھی۔ تاہم اب گند نکاسی کیلئے بنایا گیا نظام اس کالونی سے صرف چند گز کے فاصلے پر ایک کھائی میں داخل ہورہا ہے۔اس سے قبل پورے شہر کا کوڑا کرکٹ ایوب چوک میں پھینکا جاتا تھالیکن بعد میں گند نکاسی کے نظام کو ایوب چوک کے قریب سے گزرتی ایک ندی سے ملانے کا ایک نیا منصوبہ شروع ہوا،جو کہ اپنے متعلقہ وقت میں پورا نہیں ہوسکا اور اب اسکی وجہ سے سارا گند کرسچن کالونی کے قریب موجود کھائی میں جارہا ہے جس کے باعث یہ غلاظت کرسچن کالونی کیطرف جانے والی پانی سپلائی کی لائین میں داخل ہو گیا ہے اور مسیحی یہ مضرِ صحت زہریلا پانی پینے پر مجبور ہیں۔
مقامی مسیحیوں نے بتایا کہ اکتوبر 2015 کے مقامی الیکشن میں مسیحی برادری نے چیئر مین کی نشست کیلئے مسیحی رکن کو کھڑا کرنے کا مطالبہ کیا کیونکہ اس علاقے میں مسیحیوں کی ایک بڑی تعداد تھی۔ مقامی مسیحیوں نے بتایا کہ انکا مطالبہ مقامی سیاسی شخصیات نے تسلیم کیا اور مقامی مسیحی صفدر مسیح کو الیکشن میں شمولیت کی اجازت دی۔ مقامی مسیحیوں نے صفدر مسیح کو مقامی الیکشن میں امیدوار کے طور پر منتخب کیا۔ مقامی مسیحیوں کا کہنا تھا کہ اپنے نمائندے کو منتخب کرنے کیلئے ہماری جدو جہد نے ہمارے اور مقامی سیاسی حکام کے درمیان اختلاف پیدا کردیا اور یہی وجہ ہے کہ ہماری فریاد نہیں سنی جارہی۔ 
اس گندے پانی کی وجہ سے کئی بیماریاں پھیل رہی ہیں تاہم حکام اس معاملے میں ہماری مدد کرنے کو تیار نہیں۔

Related Articles

Back to top button
شیئر کریں