پاکستانی‏مسیحی خبریں

پشاور: مسیحیت کیخلاف توہین آمیز مواد شائع کرنیوالوں کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

پشاور (نوائے مسیحی) مختلف مذاہب کے نمائندگان کی جانب سے سوشل میڈیا پر خداوند یسوع مسیح اور انکے شاگردوں سے متعلق توہین آمیز مواد شائع کرنے والے افراد کیخلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
 پشاور پریس کلب میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کی سربراہی کرتے ہوئے پشاور کے بشپ سرفراز پیٹر نے پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسیحی برادری کے افراد معاشرے میں امن اور بین المذاہب ہم آہنگی پیدا کرنے میں مصروف ہیں،مگر سوشل میڈیا پر خداوند مسیح یسوع اور انکے شاگردوں سے متعلق توہین آمیز اشاعت سے انکے مذہبی جذبات مجروح کئے جارہے ہیں۔ بشپ سرفراز نے وزیرِاعظم نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ معاملے کی تحقیقات کے احکام جاری کرتے ہوئے توہینِ رسالت کے قانون کے تحت مجرمان کو سخت سزادی جائے۔ اسکے علاوہ انہوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے بھی درخواست کی کہ وہ سوشل میڈیا پر توہین آمیز کارٹون شائع کرنے والے افراد کیخلاف سخت ایکشن کی یقین دہانی کروائیں۔
بشپ سرفراز پیٹر کا مزید کہنا تھا کہ گستاخی کرنے والے افراد کی گرفتاری اور سزا تک مسیحی برادری ملک گیر مظاہرے کرے گی۔ اس موقع پر موجود ہندو رہنما ہارون سراب دیاب اور سکھ رہنما سردار رنجیت سنگھ ساگر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مسیحی برادری کو مطمئن کرنے کیلئے اس معاملے پر مناسب اقدام اٹھائیں۔

 اقلیتی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلمانوں اور غیر مسلم افراد سب کا ملک ہے۔ اسلامی سکالر مقصود م احمد سلفی کا کہنا تھا کہ مسلمان تمام انبیاء اور رسول کی تکریم کرتے ہیں اور گستاخی میں ملوث ایسے افراد دہشتگردوں کی طرح ہیں،انہیں کوئی رعایت نہیں دی جانی چاہیئے۔ یونیورسٹی آف پشاور کے سابق وائس چانسلر پروفیسر قبلہ ایاز نے معاشرے میں امن کے قیام کیلئے بہتر اور مضبوط مذہبی ہم آہنگی پر زور دیا۔

Related Articles

Back to top button
شیئر کریں