پاکستانی‏مسیحی خبریں

کوئٹہ: پولیس تحویل میں تشدد کیا گیا،توہینِ رسالت کے ملزم 9 سالہ مسیحی بچے اور والدہ کا انکشاف

مسیحیوں کے حقوق اور تحفظ کیلئے کام کرنے والے ایک برطانوی مسیحی ادارے ’برٹش پاکستانی کرسچین ایسوسی ایشن‘ کی تفصیلات کیمطابق 9 سالہ مسیحی بچے پر سکول میں قرآن مجید جلانے کا الزام عائد کیا گیا،یہ واقع 20 اکتوبر کو رونما ہوا۔ اس سے اگلے دن اس مسیحی بچے اضحان اوراس  کی والدہ کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس 9 سالہ بچے اضحان اور اسکی والدہ نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ پولیس کی تحویل میں ان پر تشدد کیا گیا۔
برطانوی ادارے کیمطابق پولیس نے واقعے کی تفتیش کیئے بغیر گرفتاری عمل میں لائی۔ مسیحی بچے اور اسکی والدہ کی گرفتاری کے بعد مقامی مسیحی لیڈران بشمول جمیعت علماء اسلام (ف) کی رکن قومی اسمبلی آسیہ ناصر نے بلوچستان صوبائی اسمبلی کے رکن ولیم برکت اور شہزاد کندن کیساتھ مل کر انکی رہائی کیلئے کوششیں شروع کردیں۔
اگلے روز 21 اکتوبر بروز جمعہ کو معاملہ حل ہوگیا،جب جمیعت علماء اسلام کی مقامی قیادت نے مسیحی بچے اور اسکی والدہ کی رہائی کیلئے معاملے میں اہم کردار ادا کیا۔ توہینِ رسالت کے لگائے گئے الزامات منسوخ کردیئے گئے جبکہ نامعلوم افراد کیخلاف ایف آئی آر 167درج کردی گئی۔

Related Articles

Back to top button
شیئر کریں