پاکستانی‏مسیحی خبریں

لاہور:گھریلو ملازمہ مسیحی خاتون کو جبری مذہب تبدیل کرنے کی دھمکیاں

لاہور کی 38 سالہ مسیحی خاتون آستر عمران زوجہ عمران مسیح کو جبری مذہب تبدیل کرنے کیلئے دھمکایا جارہا ہے،آستر جوکہ گھریلو ملازمہ ہیں چند روز قبل انہوں نے اپنے مالکان سے اجرت بڑھانے کی بات کی جس پر مالکان نے اسے مذہب تبدیل کرنے کی باتیں کرنی شروع کردیں۔آستر عمران ایک غریب مسیحی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں،اپنے خاندان کی مالی بہتری و خوشخالی کیلئے آستر ایک گھریلو ملازمہ کے طور پر ایک وکیل میاں محمد اکبر کے گھر پر کام کرتی تھی۔
پاکستان کرسچن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق آستر نے 2010 میں میاں محمد اکبر کے ہاں 6 ہزار روپے ماہانہ کے عوض گھریلو ملازمہ کے طور پر کام شروع کیا۔ قریب 6 سال تک انکے گھر ملازمہ کے طور پر کام کرنے کے بعد آستر نے اپنی ماہانہ اجرت میں اضافے کا مطالبہ کیا۔ ماضی میں اگست کے مہینے میں آستر نے اپنی ماہانہ اجرت بڑھانے کا مطالبہ کیا کیونکہ اسکے گھریلو اخراجات میں اضافہ ہوگیا تھا اور اسکے خاوند جو کہ رکشا چلاتا ہے اسکی آمدن سے گھر کے اخراجات کنٹرول نہیں ہورہے تھے۔ آستر نے اپنے مالکان سے کہا کہ اب اس 6000 کی رقم سے گھر کا گزارا ٹھیک سے نہیں ہو پارہا،اس نے کہا کہ پچھلے 6سال سے وہ انکی خدمت کررہی ہے اور اسکی اجرت میں اضافہ واجب بات ہے۔
بالآخر آستر نے نوکری چھوڑنے کا فیصلہ کیا کیونکہ اسے اس کے کام کے مطابق اجرت نہیں مل رہی تھی۔اس نے صاف صاف میاں محمد اکبر کو صاف صاف بتا دیا کہ اسکا ارادہ نوکری چھوڑنے کا ہے کیونکہ اسے اسکی ٹھیک اجرت نہیں دی جارہی۔ جس پر میں محمد اکبر ہتاش ہوگیا اور اسے ہراساں کرنے کی کوشش کی تاکہ آستر مجبور ہو کر اسکے گھر پر کام کرتی رہے۔اسی عرصہ کے دوران اس مجبور کیا جاتا رہا کہ وہ مسلمان مرد سے شادی کرلے لیکن آستر اپنے مذہب اور ایمان سے انکار کرنے کی بات پر مزاحمت اور انکار کرتی رہی۔ ستمبر 19 کو آستر وہاں پر سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئی اور گھر پہنچتے ہی ڈر سے اپنے خاندان سمیت کہیں چلے گئے ۔
قریب ایک ہفتے بعد آستر اور عمران کو علم ہوا کہ ایڈوکیٹ اکبر انہیں تلاش کررہا ہے،جب کوئی راستہ نہ دکھا توآستر اپنی بہن کے ساتھ 2 اکتوبر کو سی ٹی ایس ادارے کے پاس پہنچی اور تحفظات کیلئے ان سے منت کی۔
اس حوالے سے مزید اطلاعات ملتے ہی شائع کردی جائیں گی۔ 

Related Articles

Back to top button
شیئر کریں