پاکستانی‏مسیحی خبریں

خانیوال: مسیحی آبادی حکومتی عدم توجہ کا شکار

صوبہ پنجاب کے ضلع خانیوال شہر کے وسط میں واقع چار ہزار سے زاید مسیحوں کی آبادی خرم پورہ کی گلیوں میں شہر بھر کا سیوریج کا پانی بھرا رہتا ہے جبکہ کوئی پرسان حال بھی نہیں کہ اس حالت کو بدلا جا سکے۔ خرم پورہ اندرون شہر کے مرکزی ضلعی دفاتر ٹی ایم اے ، ڈی سی او آفس سے بمشکل آدھ کلومیٹر پر واقع ہے اور ملحقہ پیپلز کالونی سے 10 گز کا فاصلہ پر ہے۔ پیپلز کالونی میں سیوریج اور سٹریٹ لائٹ کا نظام درست حالت میں کام کررہا ہے اور گلیاں بھی بہترین حالت میں موجود ہیں جب کے خرم پورہ جس کی کل آبادی 4500 نفوس پر مشتمل ہے اور جس میں مسیحی ووٹروں کی تعداد 1600 اور مسلم ووٹروں کی تعداد423 ہے، اس میں نو میں سے چھ گلیوں میں ملحقہ پیپلز کالونی اور رحمان پورہ کی آبادوں کے سیوریج کا پانی بھر جاتا ہے۔ یہاں کے مکین اس غلیظ پانی کی وجہ سے مختلف بیماریوں میں متبلا رہتے ہیں اور خدشہ رہتا ہے کہ کوئی موذی مرض نہ پھوٹ پڑے اور علاقہ کے لوگ کسی ناگہانی آفت کا شکار نہ ہوجائیں۔
 شہزاد فرانسس جو یہاں کے رہائشی ہیں اور نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن کے ممبر بھی ہیں، انہوں نے متعدد بار تحصیل میونسپل انتظامہ کو درخواست دی اور اس معاملہ پر آواز اٹھائی ہے مگر تا حال کوئی شنوائی نہیں ہو سکی۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوۓ شہزاد نے بتایا کہ رکن اسمبلی نشاط احمد خان سے کئی دافعہ رابطہ کرنے کے باوجود سیوریج کے مسائل جوں کے توں ہیں۔ ان کا کہنا تھا ڈی سی او آفس کے مطابق پانی کی نکاسی کو بہتر بنانے کے لئےگلیوں کو اونچا کرنے کی ضرورت ہے اور اس کام کے لئے قریباً 13 لاکھ روپے چاہیں جو کے رواں مالی سال میں ممکن نہیں ہوا۔ یہاں کے رہائشی سیموئیل نواب اس ضمن میں کہتے ہیں کہ خرم پورہ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور سیوریج کے پانی کی وجہ سے لوگ بیمار ہو رہے ہیں لیکن حکام بالا کچھ نہیں کر رہے۔ سال میں ایک مرتبہ کھمبوں پر بلب لگادئیے جاتے ہیں جو چند ہفتوں بعد ہی ناکارہ ہوجاتے ہیں۔

خانیوال | سیسل پال

مزید خبریں

شیئر کریں
Close