پاکستانی‏مسیحی خبریں

کراچی میں مسیحی نوجوان لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی

کراچی میں مسیحی نوجوان لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی۔ ہوا کی بیٹی انصاف کی منتظر
 سوزین ڈینئیل کراچی کی رہائشی ہے جس کا تعلق کراچی کے ایک مسیحی گھرانے سے ہے۔ سوزین پچھلے کافی دنوں سے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی آواز حکام بالا تک پہچانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن شاید ہمارا بے حس معاشرہ اس کی باتوں کے چسکے لے رہا تھا اور انصاف کے دروازے بھی اس کے لیے بند تھے۔ جس پر سوزین نے 8 ستمبر کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کر کے میڈیا کو اپنی دکھ بھری کہانی سے آگاہ کیا۔
 سوزین نے کہا کہ میں پاکستانی ایماندار شہری ہوں اور اس ملک سے پیار کرتی ہیں لیکن اس ملک کا قانون مجھے انصاف دینے میں ناکام رہا۔ اس نے بتایا کی 26 جون 2016 کو ہولی ٹرینٹی چرچ کراچی کے بشپ صادق ڈینئیل کے کوارڈئینیٹر وقار حسین نے میرے موبائل پر فون کر کے کہا بشپ صادق ڈینئیل کہ رہے ہیں کہ ہم ایک نیا پروجیکٹ شروع کررہے ہیں جس میں ہم آپ کو بہت اچھا عہدہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے اگلے دن وقار حسین میرے گھر شام پانچح بجے آیا اور کہا کے پروجیکٹ کے سلسلے میں میٹنگ ہے بشپ صاحب اور چائینہ کے ایک وفد ہمارا انتظار کر رہا ہے۔ وقار حسین مجھے کوٹھی نمبر 151 بی خیابان بہاریہ میں لے گیا جہاں بشپ صاحب کے سیکٹری ظفر اقبال بھی موجود تھا۔ وقار حسین نے کہا کے ابھی کچھ دیر میں بشپ صاحب اور وفد یہاں پہنچ جائے گا اور میٹنگ کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا۔ وقار حسین نے ایک ویٹر کو بلایا اور اس سے جوس لانے کو کہا۔ جوس میں نشہ آور چیز ہونے کی وجہ سے میں سو گئی۔ رات 12 بجے کے قریب جب مجھے ہوش آیا تو اپنے آپ کو برہنہ پایا اور زور زور سے چلانا شروع کر دیا۔ لیکن مکرو حرکت کرنے والے وقار حسین اور ظفر اقبال نے اس خوف ناک کھیل کو اپنے موبائل میں محفوظ کر لیا تھا۔
 انھوں نے مجھے دھمکی دی تو اگر تم شور مچائو گی یا کسی کو اس بارے میں بتائوں گی تو ہم تمہاری ویڈیوز اور برہنہ تصاویر سار ی دنیا کو دکھا کر تمہیں تمہیں ذلیل و رسواں کریں گی۔ اس کے بعد انھوں نے مجھے میرے گھر چھوڑا۔ یہ تھی سوزین کی آپ بیتی، ہم درخواست کرتے ہیں حکومت کے اعلی اداروں سے کی اس معاملہ کی تفتیش کریں اور ملظموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

Press Conference Video

Related Articles

Back to top button
شیئر کریں