پاکستانی‏مسیحی خبریں

کام کا جھانسا دے کر 14 سالہ غریب مسیحی لڑکی کا اغواہ،والد کو قتل کردیا گیا

مہوش نامی ایک کمسن مسیحی لڑکی کو نوکری اور پیسوں کا لالچ دے کر اغوا کرلیا گیا۔ واقعے کا شکار ہونیوالی اس مسیحی لڑکی کا تعلق فیصل آباد کے علاقے خالد کالونی سے ہے،جسے ایک مسلمان خاندان اپنے گھر ملازمہ کے طور پر کام کرنے کیلئے ساتھ لے کر گیا جسکے بعد کبھی بھی مہوش گھر واپس نہیں لوٹی۔ اس کمسن لڑکی کی والدہ نے انکشاف کیا ہے کہ مہوش کے والد کو اغواکاروں نے قتل کردیا ہے۔
تفصیلات بتاتے ہوئے مہوش کی والدہ نے بتایا کہ قریب دو مہینے پہلے 12 مارچ کو ایک مسلم خاندان نے ان سے رابطہ کیا اور کہا کہ ہمارے گھر آج شام ایک تقریب ہے،ہم مہوش کو آج شام اس تقریب میں گھریلو کام کاج کیلئے ملازمہ کے طور پر لے جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ وہ بحفاظت تقریب ختم ہونے کے بعد مہوش کو معاوضہ سمیت گھر چھوڑ کرجائیں گے۔ مہوش کی والدہ نے بتایا کہ بس اسی دن سے ہماری بچی لاپتہ ہے جب سے وہ انکے ساتھ گئی۔
لاپتہ ہوجانیوالی مہوش کے والد تنویر نے بیٹی کا پتہ کرنے کیلئے اس خاندان کے گھر پر رابطہ کیا جو مہوش کو لے کر گئے تھے،تاہم مہوش وہاں پر نہ ملی۔ اس خاندان نے مہوش کے والد کو کہا کہ آپ کی بیٹی باہر کسی کام سے گئی ہے اسلئے ابھی آپ کو نہیں مل سکتی۔ لاکھ ناکام کوششوں کے بعد 42سالہ تنویر نے مقامی لوگوں کو اس واقعے کے بارے میں بتانے کا فیصلہ کیا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ تھک ہار کر مہوش کے والد تنویر نے پولیس میں اپنی بیٹی کے اغوا کی رپورٹ درج کرانے کا فیصلہ کرلیااور10 مئی کو رضا آباد کے پولیس تھانے میں عمر دراز،محمد زاہد اور مبین رحمان کیخلاف اپنی بیٹی کے اغوا کی رپورٹ درج کروادی۔
مہوش کی والدہ نے بتایا کہ جس دن سے ایف آئی آر درج کروائی اسی دن سے اغوا کاروں نے میرے خاوند تنویر کو دھمکیاں دینا شروع کردیں اور دباؤ ڈالنے لگے کہ ایف آئی آر واپس لے لو۔ 2 مدعیوں نے میرے خاوند کو کہا کہ وہ اس معاملے کے حل کیلئے کوشاں ہیں اور ہم کوشش کریں گے کہ تمہارا یہ معاملہ حل ہوجائے لیکن شرط یہ ہے کہ تم درج کروائی رپورٹ واپس لے لو،تنویر نے اس بیٹی کے واپس مل جانے کی امید میں درخواست واپس لے لی۔
اغواکاروں نے میرے خاوند کو ایک میٹنگ میں بلایا،جب تنویر اغواکاروں سے ملنے کیلئے اس میٹنگ میں جارہا تھا تو 2نامعلوم افراد نے جھنگ روڈ ،ٹھیکری والا پر اسے گولی مارکر ہلاک کردیا۔ پولیس نے ان نامعلوم افراد کیخلاف قتل کی دفعات سمیت ایک ایف آئی آر درج کی ہے لیکن ابھی تک کوئی خاطرخواہ کاروائی کی نہیں۔
سوگواران میں تنویر کی بیوی سمیت 3 بیٹیاں شامل ہیں،اس وقت عزیز انکی مدد کررہے ہیں۔ مہوش کی والدہ کا کہنا تھا کہ مجھے میری بچی واپس چاہیئے اور مجرجوں کو سزا ملنے چاہیئے۔ میرے پاس پیسے نہیں کہ میں کچھ کھانے کو خرید سکوں یا قانونی کاروائیوں پر خرچ کرسکوں،میں خدا کے لوگوں سے مدد کی اپیل کرتی ہوں۔
مزید انکا کہنا تھا کہ میری بیٹی کے اغوا سے اب تک کئی مہینے بعد بھی پولیس نے اب تک کچھ نہیں کیا کیونکہ ہمارے پاس پیسے نہیں تاکہ ہم اپنے حق کیلئے ان سے کچھ کہہ سکیں،ہم بالکل بے بس حالت میں جی رہے ہیں۔ میں دعاکرتی ہوں کہ میری بچی کو خداوند یسوع امید اور ایمان کی مضبوطی بخشے۔

Related Articles

Back to top button
شیئر کریں