پاکستانی‏مسیحی خبریں

فیصل آباد: جنسی تشدد کا شکار دو مسیحی لڑکیوں پر چوری کا جھوٹا الزام،مقدمہ خارج

دو مسیحی لڑکیاں جن کے نام سحرش اور فرزانہ ہیں ان پر مسلمان وڈیرے نے چوری کا جھوٹا الزام لگایا،مسیحی لڑکیوں پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے 35 ہزار روپے،سونے کے ذیورات اور دو موبائل فون چوری کیے ہیں۔ دونوں بہنیں ان کے گھر پر کام کرتی تھیں۔
ان دونوں بہنوں پر 3 دسمبر2014 کو تین آدمیوں نے جنسی حملہ کیا،دونوں بہنیں باہر کھیتوں میں رفع حاجت کیلئے گئیں تھیں کیونکہ ان کے گھر میں غسل خانہ نہیں۔ باہر کھیتوں میں  3 آدمیوں نے انہیں پکڑ لیا اور 12 گھنٹے تک جنسی تشدد کا نشانہ بنایا،تشدد کا نشانہ بنانے والے آدمیوں نے انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا اور ان پر پیشاب کرکے کہنے لگے کہ مسیحی لڑکیوں کے ساتھ ایسا سلوک ہی ہونا چاہیئے۔ اس غیرانسانی سلوک کے بعد مقامی مسلمانوں نے متاثرین اور انکے خاندان کو ہراساں بھی کیا،جنہیں برٹش پاکستانی کرسچن ایسوسی ایشن نے بازیاب کرالیا اور اس علاقے سے نکال کراس مسیحی خاندان کو دوسری جگہ لے گئے اور انہیں تحفظ فراہم کیا۔ نئے مقام پر مقیم ہونے کے بعد دونوں مسیحی لڑکیوں نے ایک مسلمان وڈیرے کے گھر پر کام کرنا شروع کردیا جہاں ان پر چوری کا الزام لگا دیا گیا۔ ان دونوں بہنوں نے برٹش پاکستانی کرسچین ایسوسی ایشن سے مدد کیلئے رابطہ کیا اور انکی فوری مدد کی گئی۔
دونوں بہنوں پر پہلے 35 ہزار روپے کی چوری کا الزام لگایا گیا جسے بعد میں پولیس کے سامنے ایک لاکھ بنادیا گیا۔مسیحی لڑکیوں کیخلاف لگائے الزام کے تحت ان کے گھر کی تلاشی لی گئی لیکن کوئی ثبوت یا سراغ نہیں ملا اور الزام بے بنیادثابت ہوگیا,یہی نہیں پولیس نے ان کے 12 سالہ چھوٹے بھائی کو حراست میں لے لیا اور کئی دن تک حراست میں رکھا لیکن بعد میں جب برٹش پاکستانی کرسچن ایسوسی ایشن کے افسر نے ان پولیس اہلکاروں کو خبردار کرتے ہوئے انکے کیخلاف قانونی کاروائی کا کہا تو پولیس اہلکاروں نے حراست میں لیے 12 سالہ بچے کو رہا کردیا،ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر کیس ختم کردیا گیا۔
فرزانہ کا کہنا تھا کہ ’ہم بالکل بے قصور ہیں لیکن دوسروں کو یہ بات نہیں بھائی کہ ان غریب مسیحی صفائی کرنے والوں کے پاس اچھا گھر اور فون کیسے ہے ۔ وہ نہیں جانتے کہ ہمیں برٹش پاکستانی کرسچن ایسوسی ایشن ادارے نے مدد فراہم کی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ کسی کے گھر پر کام کرنے سے ہم اتنی بڑی مشکل میں آجائیں گی،ہم تو بس کام کر کے اپنے بزرگ باپ کی مدد کرنا چاہتی تھیں‘۔

Related Articles

Back to top button
شیئر کریں