پاکستانی‏مسیحی خبریں

سینیٹر شیری رحمان نے مسیحی آئسکریم فروش پر تشدد کی خبر کا نوٹس لے لیا

پاکستانی (آن لائن) سینیٹر شیری رحمان نے مسیحی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر شائع ہونیوالی پنجاب کے علاقے کوٹ امام دین کے میں مسیحی آئس کریم فروش پر تشدد کی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا،جہاں ہجوم نے بے دھڑک ہوکر مسیحی آئس کریم فروش کو مارا پیٹا اور اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔

سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ’پاکستان میں اس میں بسنے والی اقلیتوں پر ہونیوالے مذہبی ظلم و ستم کو برداشت نہیں کیا جاسکتا،اقلیتی شہری بھی اول درجے اور برابر کے شہری ہیں کوئی دوسرے درجے کے نہیں اور انکے ساتھ اسطرح کا سلوک نہیں کیا جاسکتا‘۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر شیری رحمان نے خلیل مسیح نامی مسیحی آئسکریم فروش پر ہجوم کی جانب سے شدید تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے واقعے پر وفاقی اور صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا (مسیحی آئس کریم فروش پر الزام لگایا گیا کہ وہ مسلمان بچوں کو گندی آئس کریم بیچ رہا ہے ،اور اس الزام کی وجہ سے مسیحی آئسکریم فروش کو شدید تشدد کا نشانہ بنا ڈالاگیا)۔ 
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کو ایسے واقعات کا فوری نوٹس لینا چاہیئے،ایسے واقعات کو نظر انداز کرنا پہلے سے ہی ستائی ہوئی مذہبی اقلیت کیساتھ مزید نفرت انگیزجرائم اور واقعات پیش آنے کا باعث بنے گا‘۔ اقلیتوں کیساتھ سلوک کے بارے میں اسلامی تعلیمات پر بات کرتے ہوئے سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ’اسلام ہمیں ذات پات ،مذہب یا عقیدے کی تفریق کے بغیر کمزور اور غریبوں کیساتھ ہمدردی اور انکا خیال رکھنے کی تعلیمات دیتا ہے‘۔
شیری رحمان نے قانون نافذ کرنیوالے اداروں سے درخواست کی کہ اس واقعے کے قصورواروں کے خلاف کاروائی کی جائے،انہوں نے اپیل کی کہ حکومت اقلیتوں کے ساتھ بھی اسی طرح کا برابری کا سلوک کرے جیسا مسلمان شہریوں کیساتھ کیا جاتا ہے۔ حکومت کو اپنے شہریوں خاص طور پر پسماندہ اور کمزور شہریوں کیساتھ کیے جانیوالے برتاؤ کے حوالے سے ایک واضح پوزیشن لینے کی ضرورت ہے۔

جیسا کہ مسیحی میڈیا پر پہلے ہی اس واقعے کی خبر شائع کی گئی تھی کہ ’چھانگا مانگا کا رہائیشی مسیحی خلیل مسیحی جو کہ ایک آئس کریم فروش ہے،کوٹ امام دین نامی ایک گاؤں میں 17 مئی کو آئسکریم بیچنے گیا تھا۔ گاؤں میں آئس کریم بیچتے وقت گاؤں کے دو مسلمان شخص جنکے نام محمد فرمان اور محمد رضوان ہیں مسیحی آئس کریم فروش خلیل کے پاس آئے اور اسے مارنے پیٹنے لگ گئے اور اسے چوڑا بول کر اسکی بے حرمتی کرنے لگے۔
Christians News in URDU Pakistani Christians

خلیل مسیح نے بتایا کہ ’انہوں نے مجھے چوڑا چوڑا کہنا شروع کردیا اور مجھ پر الزام لگانے لگے کہ میں مسلمان بچوں کو گندی آئسکریم بیش رہا ہوں،میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی پر انہوں نے میری ایک نہ سنی اور مجھے پیٹتے رہے،جلد ہی مزید 20 کے قریب افراد جمع ہوگئے اور مل کر مجھے مارنے لگے۔ پاس کھڑے لوگوں نے یہ کہتے ہوئے نعرہ بازی شروع کردی کہ ’مسیحی اچھوت ہوتے ہیں، انہیں مسلمانوں کو کوئی بھی کھانے پینے کی چیز بیچنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے‘۔

Related Articles

Back to top button
شیئر کریں