پاکستانی‏مسیحی خبریں

لاہور:12 دن قبل اغوا ہونیوالے مسیحی نوجوان کا تاحال کچھ پتہ نہیں چلا

کئیر کونسل آف ہیومن رائٹس کے نیشنل ڈائریکٹر سلیم اقبال کی رپورٹ کیمطابق ایک مسیحی پاسبان کے بیٹے کو اغوا کرلیا گیا ،جو کہ اغوا کے بارہ دن بعد بھی بازیاب نہیں کرایا جاسکا. یہ واقع لاکھو دیہرکے علاقے میں پیش آیا جو کہ لاہور شہر کے مناواں پولیس تھانے کی حدود میں آتا ہے۔ نامعلوم آدمیوں نے پادری بوٹا مسیح کے 25 سالہ بیٹے کو 31 مئی بروز منگل کو اغوا کرلیا،جو کہ تاحال لاپتہ ہے۔

پادری بوٹا مسیح کا 25 سالہ بیٹا عمانوایل جان ایک مقامی ہسپتال میں اپریشن تھیٹر انچارج کے طور پر کام کرتا ہے. عمانوایل کے والد بوٹا مسیح نے بتایا کہ انکا بیٹا ایک اچھے کردار کا مالک ہے ،مقامی افراد اور اسکے جاننے والے اسکے راستباز اور اچھے کردارکی گواہی بھی دے سکتے ہیں. عمانوایل کے غمزدہ والدین کا کہنا تھا کہ’ ہمارے بیٹے نے کبھی کوئی مجرمانہ کام نہیں کیا اور پورا محلہ اسکی شرافت کا گواہ ہے‘۔

مغوی عمانوایل کی بہن نے روتے ہوا بتایا کہ ’بھائی نے مجھے میرے کام سے واپسی پر مجھے اپنے ساتھ لیا اور ہم گھر کی طرف آرہے تھے کہ اچانک نامعلوم آدمیوں نے ہمیں روک لیا اور نے مجھے گھر جانے کا کہا. ان نامعلوم اشخاص نے خود کو پولیس اہلکار بتایا اور میرے بھائی کو ساتھ لے گئے،بس اسی وقت سے میرا بھائی لاپتہ ہے‘۔
پادری بوٹا مسیح اور انکی بیوی نے کہا کہ ’ہمارا بیٹا پڑھا لکھا ہے اور پارٹ ٹائم زینب لیبارٹری میں ایڈمن آفیسر کی طور پر کام کرتا ہے‘۔ انکا کہنا تھا کہ ہم نہیں جانتے کہ اغواکاروں کا کیا مقصد ہے،ہمیں کچھ پتہ نہیں کہ کون اغوا کار ہیں۔ ہم اعلیٰ حکام اور گورنمنٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ اس اغوا کے واقعے کا نوٹس لے اور اغوا کاروں کی تحویل سے عمانوایل جان کی رہائی یقینی بنائی جائے۔

Related Articles

Back to top button
شیئر کریں