پاکستانی‏مسیحی خبریں

منڈی بہاؤالدین:چک 44کے آدھے سے زائد مسیحی خاندان مجبوراََ گھر چھوڑ گئے

Persecuted Christians News From Pakistan in Urdu

Read in English – Mandi Bhauddin: More than half of Christians flee from Chak 44 remaining on pins and needles.

چک 44کے دو رہائشی مسیحیوں نے لاہور میں ’سینٹر فار لیگل ایڈز اسسٹنس اینڈ سیٹیلمنٹ‘ ادارے سے رابطہ کیا،اور آگاہ کیا کہ گاؤں چک 44کے مسیحی کس طرح کے خوفناک حالات کا سامنا کررہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مسیحی افراد وہاں سے اپنے گھر چھوڑ کربھاگنے پر مجبور ہیں،کیونکہ ایک گروہ کی جانب سے ان پر حملے کے خدشات ہیں۔ گاؤں کے رہائشی عمران مسیح پر توہینِ رسالت کے الزام عائد کیا گیاتھا،گاؤں میں ایک گروہ نے انتقام کی خاطرمسیحیوں کے گھروں کو آگ لگا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صورتحال کو دیکھتے ہوئے مقامی چرچ کے فادر طارق نے عامر یعقوب اور عارف مسیح نامی 2رہائشیوں کو ’سینٹر فار لیگل ایڈز اسسٹنس اینڈ سیٹیلمنٹ‘سے رابطے کیلئے بھیجا،تاکہ وہ جا کر مسیحیوں کیلئے پیدا ہونیوالی اس خوفناک صورتحال سے ادارے کو آگاہ کریں اور پھنسے ہوئے مسیحی رہائشیوں کی مدد کریں۔
ادارے سے رابطہ کرنیوالے دونوں افراد نے بتا یا کہ گاؤں میں 45مسیحی خاندان ہیں،جن کی مجموعی تعداد قریب300ہے۔جبکہ 2500سے 3000کے قریب مسلمان رہائشی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وہاں کہ رہائشی مسیحی غریب ہیں،تاہم وہاں پر جن گھروں میں وہ رہائش پذیر ہیں وہ ان مسیحیوں کے اپنے ہیں۔اکثریتی مسیحی مزدور ہیں،سینٹ اینتھنی کیتھولک چرچ اس گاؤں میں واحد چرچ ہے۔مسیحی افراد میں سے70 فیصد کے قریب مسلمانوں کی جانب سے حملے کے ڈر سے مجبوراََ گاؤں سے بھاگ گئے ہیں،جو باقی رہ گئے ہیں وہ سنگین حالات میں اور اپنی زندگیوں کیلئے خوف کے سائے میں جی ر ہے ہیں۔

Related Articles

Back to top button
شیئر کریں