بین الاقوامی‏مسیحی خبریں

عراقی فادرڈاگلس نےداعش کی قید میں ہونیوالے ظلم و ستم کی داستان بتائی

An Iraqi priest reveals the horrors of ISIS’ captivity

Read in English: “They smashed my nose and teeth with hammer” An Iraqi priest reveals the horrors of ISIS’ captivity.

#WeAreN عراقی مسیحی راہنما فادر ڈاگلس بازی نے
کانگرس2016,اقوامِ متحدہ میں اسلامک سٹیٹ گروپ (داعش)کی قید میں گزارنے والے خوفناک دنوں کے بارے میں بتایا۔ اس پروگرام میں انہوں نے عراق میں مسیحیوں کی حالتِ زارسے آگاہ کیا۔
Genocide of Christians in Iraq
بغداد سے تعلق رکھنے والے فادر ڈاگلس بازی نے 4 مئی کوستائے جانے والے مسیحیوں کے حالاتِ حاضرہ کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے بتایا کہ”انتہا پسندوں نے میری گاڑی تباہ کردی،میری آنکھوں کے سامنے میرے چرچ کو دھماکے سے اڑا دیا،میرے ناک اور دانتوں پر ہتھوڑے کے ساتھ وار کیئے،میری پیٹھ کی ایک ہڈی توڑ دی،میری ٹانگ میں بندوق سے گولی ماری.گولی ابھی تک میری ٹانگ میں ہے ۔
 چرچ کی جانب سے تاوان کی ادائیگی پر انہیں رہا کردیا گیا لیکن انتہا پسند داعش کے کئے جانے ظلم وستم سے بچنے کیلئے مجبواراََ انہیں اپنا سب کچھ چھوڑ کر شمالی کردش علاقے کی طرف رخ کرنا پڑا۔ اسکے علاوہ انکے پاس اور کوئی راستہ نہ تھا۔انہوں نے بتایا کہ اس شمالی کُرد علاقےمیں 
مسیحی محفوظ ہیں۔
فادر ڈاگلس کی زیرِ نگرانی اس علاقے میں 400کے قریب پناہ گزین رہ رہے ہیں،جو کہ داعش کے تشدد کی وجہ سے اپنے گھروں سے بھاگ آئے۔ فادر ڈاگلس نے مزید کہا کہ عراق میں مسیحی ہونے کے حیثیت سے رہنا ناممکن بات ہے۔ لیکن میں اس بات سے حیران نہیں ہوں کہ وہ مسیحیوں پر حملے کر رہے ہیں اور انہیں مار رہے ہیں بلکہ اس وجہ سے حیران ہوں کہ اتنے تشدد اور قتل و غارت کے باوجود ابھی تک مسیحی لوگ کیسے زندہ ہیں۔

انہوں نے حاضرین سے کہا کہ ہمارے ساتھ ہونے والے واقعات کے بارے میں سب کو بتائیے تاکہ دنیا جانے کہ ہمارے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ فادر ڈاگلس نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عراق کے مسیحیوں کی مدد کریں اور ان کے لئے دعا کریں۔

Related Articles

Back to top button
شیئر کریں