کوئٹہ میں فائرنگ، چار مسیحی جابحق ایک بچی زخمی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں فائرنگ کے ایک واقعے میں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے چار افراد کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون بھی شامل ہیں جبکہ اس واقعے میں ایک بچی زخمی ہوئی۔یہ واقعہ سوموار کی شام ارباب کرم خان روڈ سے متصل شاہ زمان روڈ پر پیش آیا۔ نامہ نگار محمد کاظم نے بتایا کہ سریاب پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد ایک رکشے میں شاہ زمان روڈ سے بازار کی جانب جارہے تھے۔ شاہ زمان روڈ پر ہی نامعلوم مسلح افراد نے رکشے پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور ایک بچی زخمی ہوئی۔زخمی بچی کو طبی امداد اور لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔

ہسپتال میں لاشوں کے ہمراہ آنے والے ایک شخص طارق نے میڈیا کے نمائندوں بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ان کا سالا پرویز اور سالے کے دیگر رشتہ دار شامل تھے۔ان کا کہنا تھا کہ پرویز شاہ زمان روڈ کا رہائشی تھا۔ مارے جانے والے دیگر افراد ان کے رشتہ دار تھے اور ایسٹر کی تقریب منانے کے لیے کوئٹہ آئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ پرویز ان کو اپنے رکشے میں بازار لے جارہا تھا۔

پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے تین افراد کا تعلق لاہور سے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بارے میں تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے تاہم اس وقت یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے یا نہیں۔پیر کے روز کوئٹہ میں سات گھنٹوں کے دوران تشدد کا یہ تیسرا واقعہ تھا۔

اس سے قبل سریاب روڈ اور سیٹلائیٹ ٹاؤن کے علاقوں میں دو مختلف حملوں میں بنگلزئی قبیلے سے تعلق رکھنے والے کم از کم پانچ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔ سریاب پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا بنگلزئی قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہلاکت کا محرک قبائلی دشمنی ہے۔ (بی بی سی)

اپنا تبصرہ بھیجیں