ڈاکٹرروتھ فاؤ کی خدمات کے اعتراف میں 50 روپے کا یادگاری سکہ جاری

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پاکستان میں جذام کے مرض کو شکست دینے والی جرمن ڈاکٹرروتھ فاؤ کی خدمات کے اعتراف میں 50 روپے کا یادگاری سکہ جاری کر دیا ہے۔یادگاری سکہ جاری کرنے کی تقریب اسٹیٹ بینک کے کراچی میں ہیڈ کوارٹرز میں ہوئی جس میں جرمنی کے سفیر مارٹن کوبلر اور اسٹیٹ بینک کے گورنرطارق باجوہ نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب میں گورنراسٹیٹ بینک طارق باجوہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر روتھ فاؤ نے اپنی زندگی پاکستان میں جذام کے مریضوں کے وقف کردی تھی جس کے باعث پاکستان خطے میں اس مرض پر قابو پانے والا پہلا ملک بن گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ یادگاری سکے کا اجراء منفرد اقدام ہے جو ماضی میں قائد اعظم، علامہ اقبال، فاطمہ جناح اورعبدالستارایدھی جیسے عظیم لوگوں کے اعزاز میں کیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جرمنی کے سفیر مارٹن کوبلر نے ملک کے لیے ڈاکٹر فاؤ کی خدمات کا اعتراف کرنے پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ڈاکٹر روتھ فاؤ کے اعزاز 50 روپے کا یادگاری سکہ 75 فیصد تانبے اور 25 فیصد نکل سے بنا ہے جب کہ اس کا قطر 30 ملی میٹر اور وزن 13.5 گرام ہے۔سکے کے سامنے کے رخ پر چاند اور 5 نوکوں والا ابھرتا ہوا ستارہ ہے جب کہ عقبی حصے پر ڈاکٹر روتھ فاؤ کا نام اور تصویر کنندہ ہے جس کے ساتھ ان کے عرصہ حیات بھی درج کی گئی ہے۔یادگاری سکہ 9 مئی 2018 سے اسٹیٹ بینک کے تمام دفاتر میں عوام کو دستیاب ہوگا۔یاد رہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے یادگاری سکے کی منظوری گزشتہ سال نومبر میں کابینہ اجلاس میں دی تھی۔ڈاکٹرروتھ فاؤ نے 57 سال قبل پاکستان میں قدم رکھا اور جذام کے مریضوں کے لیے کراچی میں ماری ایڈیلیڈ لپروسی سینٹر قائم کیا تھا۔انہوں نے 1962 خ س سے اپنی زندگی پاکستان میں جذام کے مریضوں کے لیے وقف کی۔ان کا تعلق مذہبی جماعت دختران قلب مریم سے تھا۔ڈاکٹرروتھ فاؤ نے 1996 خ س میں پاکستان میں جذام کے مرض کو شکست فاش دی اور ملک میں 1996 خ س میں ان کی انتھک جدوجہد کے نتیجہ میں جذام سے نجات کا تاریخی دن منایا گیا۔حکومت پاکستان نے ڈاکٹرروتھ فاؤ کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ہلال پاکستان، ہلال امتیاز، ستارہ قائداعظم اور نشان قائداعظم سے نوازا۔ڈاکٹرروتھ فاؤ 10 اگست 2017 خ س کو کراچی میں خداوند میں سوگئی تھیں جنہیں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ کراچی کے مسیحی قبرستان میں سپردخاک کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں