جان کو خطرہ ہے،مجھے کوئی بھی قتل کر سکتا ہے:وکیل آسیہ بی بی

آسیہ بی بی کو پاکستان سے باہر جانے سے نہیں روکا جاسکتا:وکیل سیف الملوک

آسیہ بی بی کی سپریم کورٹ سے بریت میں اہم کردار ادا کرنے والے وکیل سیف الملوک کا کہنا ہے کہ ان کی موکلہ آسیہ بی بی کو پاکستان سے باہر جانے سے نہیں روکا جاسکتا۔ایک بار ان کی رہائی کے عدالتی احکامات پر مبنیٰ کاغذات جیل حکام کو موصول ہوگئے و ان کو رہا کرنا کرنا پڑے گا۔اگر کسی وجہ سے ایسا نہ کیا گیا تو یہ توہین عدالت کے مترادف ہوگا۔آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک کا کہنا ہے کہ ان کی موکلہ کو پاکستان سے باہر جانے سے نہیں روکا جاسکتا۔اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی آسیہ بی بی جیل سے باہر آئیں گی ان کے بیرون ملک جانے کے تمام انتظامات مکمل ہوں گے۔انھوں نے یہ بات ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں پریس کانفرنس کے دوران بتائی۔سیف الملوک نے کہا کہ اکتیس اکتوبر سے پہلے کوئی شخص بھی نہیں سوچ رہا تھا کہ آسیہ بی بی باہرآسکیں گی۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججوں نے بہادری سے فیصلہ سنایا جس کے لیے میں انھیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے جو کسی دباؤ کا نتیجہ نہیں۔کیس کا فیصلہ سنائے جانے کے آدھے گھنٹے بعد ملک بھر میں ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی تھی۔ سڑکیں بند کی جاچکی تھیں اور معمولات زندگی معطل ہوگئے تھے۔سیف الملوک کے بقول اس کے بعد ایک یورپی سفیر نے مجھے تین دن تک اپنے گھر میں رکھا اور پھر میری خواہش کے خلاف زبردستی جہاز میں بٹھاکر بیرون ملک روانہ کردیا گیا۔ میں نے اصرار کیا تھا کہ میں آسیہ بی بی کی جیل سے رہائی سے پہلے ملک نہیں چھوڑنا چاہتا۔ میں دو نومبرتک پاکستان میں تھا اوراس وقت تک آسیہ بی بی جیل میں تھیں۔پاکستان کے قانون کے مطابق صرف ان افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے جاسکتے ہیں جنھوں نے کوئی فوجداری جرم، ٹیکس چوری یا سرکاری فراڈ کیا ہو۔جہاں تک آسیہ بی بی کا تعلق ہے توسپریم کورٹ پہلے ہی ان کے بارے میں فیصلہ سناچکی ہے کہ ان کے خلاف تمام الزامات غلط ہیں۔ چنانچہ آسیہ بی بی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔حکومت کسی سے آسیہ کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا معاہدہ نہیں کرسکتی۔شدت پسندوں سے معاہدہ صرف عزت بچانے کے لیے تھا۔ یہ معاہدہ آسیہ بی بی کو باہرجانے سے نہیں روک سکتا اور انھیں اس سے کوئی نقصان نہیں ہوسکتا۔سیف الملوک کے بقول، آسیہ بی بی نے مجھے اختیار دیا ہے کہ ان کی سیاسی پناہ کے لیے مختلف ملکوں سے رابطہ کروں۔ اطالوی سفیر پہلے شخص تھے جنھوں نے آسیہ بی بی اور ان کے اہلخانہ کو پناہ دینے پررضامندی ظاہر کی تھی۔ میں نے فرانسیسی سفیر سے دریافت کیا کہ اگرکیا وہ آسیہ بی بی کو پناہ دینا پسند کریں گے۔انھوں نے کہا کہ اس کے لیے آپ کو باقاعدہ درخواست دینا ہوگی۔ لیکن جب میں اقوام متحدہ کے لوگوں سے ملا تو انھوں نے کہا کہ یہ ذمے داری ان کی ہے۔آسیہ بی بی کے وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت آسیہ بی بی کو بیرون ملک جانے سے نہیں روک سکتی۔ جیسے ہی جیل حکام کے پاس سپریم کورٹ کا فیصلہ پہنچے گا وہ ایک لمحہ بھی انھیں مزید قید نہیں رکھ سکتے۔انہوں نے دوبارہ دہرایا اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی آسیہ بی بی جیل سے باہر آئیں گی ان کے بیرون ملک جانے کے تمام انتظامات مکمل ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں