کامران مائیکل سمیت 15 افراد کیخلاف قانونی کارروائی کی درخواست

چرچ آف پاکستان لاہور ڈائسس ٹرسٹ ایسوسی ایشن نے کامران مائیکل شفیق مسیح سمیت 14 افراد کیخلاف قانونی کارروائی کےلئے ایس پی انوسٹی گیشن راولپنڈی کو درخواست دیدی بشپ عرفان جمیل چرچ آف پاکستان کے لیٹر کے ساتھ ریورنڈ شاہد معراج کی طرف سے دی جانے والی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ
(Protection of Minorities Properties Ordinance V 2002 ) مشنری پراپرٹیز ایکٹ 2002 جس میں کسی بھی مشنری/چرچ پراپرٹی کو بیچنے اور لیز پر دینے کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مذکورہ افراد نے چرچ آف پاکستان کی مختلف پراپرٹیز کو جعلسازی اور جھوٹی دستاویزات پر فروخت ، لیز پر دینے اور قبضے کرنے کی کوشش کی درخواست میں شفیق مسیح کو 26 ستمبر 2011 اور 4 مارچ 2013 کو اس وقت پنجاب میں مسلم لیگ ن کے صوبائی وزیر اقلیتی امور، انسانی حقوق و ویمن ڈویلپمنٹ کامران مائیکل کی وزارت کی طرف سے ملنے والے NOC اور سب رجسٹرار علامہ اقبال ٹاؤن لاہور اور ہولی ٹرینیٹی چرچ مال روڈ مری کی پراپرٹی فروخت کیخلاف مردان کے رہائشی وقار احمد خان کی طرف سے کروائی جانے والی تھانہ مری کی FIR NO. 40/2016 کا بھی حوالہ دیا گیا ہے چرچ آف پاکستان لاہور ڈائسس ٹرسٹ ایسوسی ایشن کے سیکرٹری ریورنڈ شاہد معراج کے مطابق ہم نے مری سیشن کورٹ میں بھی اپنا موقف پیش کردیا ہے۔ ایک سوال کہ مری چرچ پراپرٹی کیس میں اتنے سالوں بعد چرچ انتظامیہ کیوں حرکت میں آگئی اور اتنے سال خاموشی کی وجہ کیا ہے پر ریورنڈ شاہد معراج کا کہنا تھا کہ ہم نے اس پر فورآ ہی ایکشن لے لیا تھا ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی کو بھی خدا کے گھر کو بیچنے کی اجازت نہیں دینگے چاہئے وہ کوئی بھی ہو اسی لیے ہم نے اپنی درخواست میں مشنری پراپرٹیز کو بیچنے خریدنے اور ان کے سہولت کاروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیاہے ۔۔۔۔۔۔۔ یاد رہے کہ مری چرچ پراپرٹی فروخت کیس سرکار بنام کامران مائیکل میں عدالت نے کامران مائیکل کی عبوری ضمانت کنفرم کردی تھی جبکہ شفیق مسیح تاحال اس کیس میں اشتہاری ہے۔ (منارٹیز واچ)

اپنا تبصرہ بھیجیں