سپریم کورٹ نے نادرا کو مسیحی شادیوں کی رجسٹریشن کا حکم دے دیا

سپریم کورٹ نے یونین کونسلز اور نادرا کو مسیحی شادیوں کی رجسٹریشن کا حکم دیا ہے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ایک فیصلے میں مسیحی برادری کی شادیوں کو رجسٹر کرنے کا حکم جاری کیا۔اپنے فیصلہ میں سپریم کورٹ نے یونین کونسلز کو بھی پابند کیا ہے کہ وہ مسیحی برادری کی شادیوں کی رجسٹریشن کو یقینی بنائیں۔عدالت نے اپنے فیصلہ میں نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی نادرا کو بھی اس بات کا پابند کیا ہے کہ وہ مسیحی شادیوں کے کمپیوٹرائزڈ رجسٹریشن سرٹیفیکٹ جاری کرئے۔سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو پنجاب اسمبلی میں قانون جاری کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مسیحی برادری کے لیے بہتر قوانین اور اقدامات کیے جائیں۔ چرچ آف پاکستان کے کیتھیڈرل کے ڈین پاسٹر شاہد معراج کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سماعت کی گئی۔اس درخواست میں شاہد معراج نے عدالت کو بتایا کہ بلدیاتی سطح پر کئی بار شکایات کرنے کے باوجود بھی مسیحی برادری کی شادیاں یونین کونسل میں رجسٹر نہیں کی جاتیں۔
چرچ آف پاکستان لاہورڈایوسیس کے سابق بشپ الیگزینڈرجان ملک نے عدالت کو بتایا کہ کرسچن میرج ایکٹ کی شِق نمبر 28، 29، 30 اور 37 کے تحت کئی سالوں سے مسیحی شادیوں،ولادت اوراموات کی تفصیلات رجسٹرار جنرل کو بھیجی جاتی تھیں۔ لیکن صوبائی سطح پر بلدیاتی نظام بننے کے بعد یہ ذمہ داری یونین کونسل پر آگئی۔ یونین کاؤنسل کی بنیادی ذمہ داری مسیحی برادری میں پیدائش اور اموات کی رجسٹریشن تو کرتی تھی لیکن شادیوں کی رجسٹریشن نہیں کرتی تھی۔عدالت کے استفسار پر یونین کونسلز کے نمائندے نے بتایا کہ ان کو لوکل گورنمنٹ کی طرف سے ایسے کوئی احکامات جاری نہیں ہوئے تھے اور انھوں نے مزید کہا کہ انفرادی طور پر شادیوں کی رجسٹریشن گرجا گھروں کی ذمہ داری ہے جہاں یہ شادیاں طے پاتی ہیں۔