فیصل عرف فیشل نے خود کو پاکستان کا پہلا یہودی تسلیم کروالیا

پاکستانی شہری محمد فیصل خالد نے ایک طویل کارروائی کے بعد خود کو یہودی تسلیم کروالیا ہے۔فیصل عرف فیشل نے نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی کے ساتھ اس قانونی جنگ کو جیت کر اپنے شناختی کارڈ کے مذہب کے خانہ میں مسلم کی جگہ یہودیت لکھوالیا ہے۔واضح رہے کہ نادرا کی جانب سے کسی مسلم کا مذہب کے خانہ میں ترمیم کروانا کافی پیچیدہ اور تقریباً ناممکن عمل ہے۔اس کے برعکس اپنا مذہب چھوڑ کر مسلم بن جانے والوں کو اس سلسلہ میں صرف سادہ کاغذ یااسٹامپ پیپر پرتبدیلی مذہب کا حلفیہ بیان دینے پر شناختی کارڈ میں مذہب تبدیل کردیا جاتا ہے۔نادرا کے بعد حکومت پاکستان کے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن حکام نے بھی ان کے پاسپورٹ پر ان کو یہودی لکھ کر تسلیم کرلیا ہے۔اس کے بعد فیشل اب اپنے پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل جانا چاہتے ہیں۔32 سالہ فیشل عرف فیصل خالد کا تعلق کراچی سے ہے، ان کا کہنا ہے کہ وہ سنہ 2016 خ س سے پاکستان کے قومی رجسٹریشن کے ادارے نادرا سے رابطے میں تھے کہ انہیں یہودی لکھا جائے۔ان کا مئوقف تھا کہ میں نے نادرا کو آگاہ کیا میں باعمل مسلم نہیں ہوں حالانکہ پیدائش کے وقت مجھے مسلم رجسٹرڈ کیا گیا جو پاکستان میں بین المذاہب شادیوں کی صورت میں ہوتا ہے۔نادرا مجھ سے مختلف دستاویزات،برتھ سریٹیفیکٹ والدہ کا شناختی کارڈ اوردیگردستاویزات مانگتے رہے اور میں انہیں دیتا رہا جس کے بعد انہوں نے میرے شناختی کارڈ میں درستگی کی کیونکہ پاکستان کے قانون کے تحت اسلام سے کسی دوسرے مذہب میں تبدیلی نہیں ہوسکتی۔فیصل خالد کا دعویٰ ہے کہ ان کی والدہ کا تعلق یہودی مذہب سے تھا۔وہ اپنی ماں سے متاثر ہوکر یہودی مذہب اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔خیال رہے کہ پاکستان کے قیام سے قبل کراچی میں یہودی مذہب کے لوگ آباد تھے او اِس وقت بھی ان کا ایک عبادت خانہ یعنی سنیگاگ اورکراچی کے علاقے میوہ شاہ میں قبرستان بھی موجود ہے۔فیشل کا کہنا ہے کہ 1950 خ س میں جب رجسٹریشن ہوئی تو اس وقت یہودی کمیونٹی نے اپنی شناخت ظاہرنہیں کی بلکہ خود کو مسلم یا پارسی ظاہرکیا۔پاکستان میں اس وقت جو یہودی موجود ہیں وہ زیادہ ترعمررسیدہ ہیں ان کے بچے باہر رہتے ہیں وہاں کی شہریت اختیار کی ہوئی ہے۔یہ تمام لوگ پاکستان آتے جاتے رہتے ہیں۔فیصل خالدعرف فیشل سماجی ویب سائیٹ ٹوئٹر پربھی سرگرم ہیں اوراپنی شناخت ’جیو پاکستانی‘ تحریر کی ہوئی ہے۔نادرا سے شناختی کارڈ میں تبدیلی کے بعد انہوں نے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے یروشلم جانے کی خواہش کا اظہار کیا اورٹوئٹر پرحکام کو مدد کے لیے بھی لکھتے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کے پاسپورٹ پر یہ تحریر ہے کہ اس دستاویز پر اسرائیل کا سفر نہیں کیا جاسکتا۔فیصل خالد کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں وزیراعظم کی شکایتی ایپ کا اجرا ہوا جس میں انہوں نے وزیراعظم کو مخاطب ہوکر یروشلم جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ان کی درخواست وزیراعظم سیکریٹریٹ سے وزرات خارجہ کو بھیجی گئی جہاں سے سندھ کے چیف سیکریٹری کے پاس آئی بالاخرجنوری کے پہلے ہفتے میں وزرات خارجہ سے ٹیلیفون آیا کہ آپ ویزے کے لیے رابطہ کرسکتے ہیں۔فیصل خالد عرف فیشل کا کہنا ہے کہ مجھے مشورہ دیا گیا کہ آپ فلسطین سفارتخانے سے ویزہ لگوائیں اوروہاں سے اسرائیل چلے جائیں۔میں نے انہیں آگاہ کیا کہ یروشلم تو اسرائیل میں ہے وہاں سے تو توثیق کرانی ہوگی اور میں یہ اپنے پاسپورٹ پرکرانا چاہتا ہوں اس کو چھپانا نہیں چاہتا۔حکام نے کہا کہ آپ اپنی مذہبی آزادی کے تحت جاسکتے ہیں۔فیشل خالد کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ فلسطین سفارتخانہ انہیں بطوریہودی ویزہ دے گا یا معاونت کرے گا لیکن حفظ ماتقدم کے طورپروہ رابطہ ضرور کریں گے۔اس کے علاوہ وہ اسرائیلی حکومت سے بھی رابطہ کرکے اپنی خواہش کا اظہار کریں گے۔فیصل شادی شدہ ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان کی بیوی شادی سے قبل یہ جانتی تھی کہ وہ یہودی ہیں۔انہوں نے اپنے بچوں کو بھی بطور یہودی رجسٹرڈ کرایا ہے کہ اس سے پاکستان میں یہودی کمیونٹی فروغ پائیگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں