عدالت نے آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف نظر ثانی درخواست مسترد کردی

سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست مسترد کردی۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف نظرثانی درخواست کی سماعت کی۔سماعت کے دوران قاری سلام کے وکیل کی لارجربینچ بنانے کی درخواست کی۔وکیل غلام مصطفی ایڈوکیٹ نے کہا کہ معاملہ مسلم امہ کا ہے۔عدالت مذہبی اسکالرزکو بھی معاونت کے لئے طلب کرے۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مذہب کا معاملہ کیسے ہوا کیا فیصلہ میرٹ پر نہیں ہوا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا اسلام کہتا ہے کہ جرم ثابت نہ ہونے پرسزا دی جائے۔عدالت نے فیصلہ صرف شہادتوں پردیا ہے۔کیا ایسی شہادتیں قابل اعتبار نہیں اوراگرعدالت نے شہادتوں کاغلط جائزہ لیا تودرستگی کریں گے۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ ثابت کریں کہ فیصلے میں کیا غلطی ہے۔اس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ فیصلے میں کہا گیا کہ بار ثبوت مدعی پر ہے۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ اس اصول سے اختلاف کرتے ہیں۔
وکیل غلام مصطفی نے کہا کہ سابق چیف جسٹس نے کلمہ شہادت سے فیصلہ کروایا۔جسٹس ثاقب نثار نے کلمہ شہادت کا غلط ترجمہ کیا۔جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ سابق چیف جسٹس اس وقت بینچ کا حصہ نہیں وہ آپ کی بات کا جواب نہیں دیں گے اورلارجر بینچ کاکیس بنا ہوا تو ضروربنے گا۔قاری سلام کے وکیل نے کہا کہ فیصلے میں سپریم کورٹ کے کچھ نظائر کو نظر انداز کیا گیا۔اگر کسی بیان پرجرح نہ کی گئی ہو تو اسی بیان کو درست سمجھا جاتا ہے؟ یہ لارجر بینچ کا فیصلہ ہے۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کوئی وکیل ملزم سے سوال پوچھنا بھول جائے تو اسے پھانسی لگا دیں؟ آپ میرٹ پر بات کریں۔چیف جسٹس نے کہا کہ مدعی قاری سلام نے اپنے بیانات بدلےوہ کہتے ہیں کہ افضل نے انہیں اطلاع دی جبکہ افضل حلف اٹھا کر کہتا ہے کہ یہ اس کے گھر آئے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فوجداری قانون میں ایک گھنٹے کی تاخیر سے شکوک و شبہات شروع ہوجاتے ہیں، اس پر وکیل قاری سلام نے کہا کہ مدعیوں کی جانب سے آسیہ کو کسی بدنیتی کی وجہ سے ملوث نہیں کیا گیا۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جن خواتین نے ابتدائی الزام لگایا وہ قاری صاحب کی بیگم سے قرآن پرھتی ہیں، قاری صاحب ایف آئی آر درج کروانے کے لیے 5 دن کیوں سوچتے رہے، 5 دن میں قاری صاحب نے ایک وکیل سے درخواست لکھوائی جبکہ قاری صاحب کہتے ہیں کہ وہ وکیل کو نہیں جانتے۔چیف جسٹس نے قاری سلام کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ کہیں وہ وکیل آپ ہی تو نہیں تھے؟قاری سلام کے بیان کے مطابق گاؤں والے اکٹھے ہوئے پھر ایف آئی آر درج ہوئی جبکہ گواہوں کے بیانات میں کہیں مجمع اکٹھا ہونے کا ذکر نہیں، مجمع اکٹھا ہونے کے بارے میں بہت زیادہ جھوٹ بولا گیا۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جھوٹی شہادت پرکہتے ہیں کہ پھانسی لگادیں کسی کواس پر وکیل قاری سلام نے کہا کہ بیانات میں تھوڑا فرق ہےجس پر چیف جسٹس نے کہا کہ فرق؟ یہ جھوٹ ہے۔قاری سلام نے حلف پر جو بیان دیا وہ پہلے بیان سے مختلف تھا۔ایسا مدعی ہے جس کو یہ نہیں پتہ کہ اس کی درخواست کس نے لکھی۔قاری صاحب کو تو براہ راست بچیوں نے نہیں بتایا ہوگا۔چیف جسٹس نے کہا کہ کیا اسلام کی یہ تصویر پیش کر رہے ہیں۔اس طرح کے گواہ ہوتے ہیں؟سب گواہان کے بیانات میں واضح تضاد ہے اورآپ سارا پاکستان بلاک کردیتے ہیں کہ ہماری بات کیوں نہیں مانی گئی۔الزام لگاتے ہیں کہ ایسے لوگ ہیں کہ بری کردیا۔اپنے گریبان میں بھی تو جھانکیں کیس کیا بنایا ہے۔پھران کو کیسے پتا چلا کہ یہ الفاظ کہے گئے۔چیف جسٹس نے کہا کہ مقدمے کی حساسیت کا خیال کیا ورنہ جھوٹی گواہی پر گواہوں کو اندر کرتے۔اگر انصاف کردیا تو واجب القتل ہوگئے؟ یہ ہے اسلام جو قاضی کہے کہ یہ شہادت قابل اعتبار نہیں تو اس قاضی کا فیصلہ آپ کو منظور نہیں کیوں کہ فیصلہ آپ کی مرضی کا نہیں۔اس دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ بتائیں فیصلے میں کیا غلطی ہے؟ ساتھ ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم کیس کی دوبارہ سماعت نہیں کر رہے، ان کی تسلی کے لیے سن رہے ہیں، جنہوں نے بغیر پڑھے فتوے جاری کیے۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد نظر ثانی درخواست مسترد کردی۔بعد ازاں عدالت نے ریمارکس دیے کہ میرٹ پر نہ ہونے کی وجہ سے اس اپیل کو خارج کیا جاتا ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ درخواست گزارایک بھی وجہ نہیں بتا سکا جسکی بنیاد پرنظر ثانی کی جاسکے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی آرمیں عوامی اجتماع کا کوئی ذکرنہیں کیا گیا۔ایف آئی آرعوامی اجتماع کے تین گھنٹے بعد درج ہوئی۔کوئی اورکیس ہوتا تو گواہان کیخلاف مقدمہ درج کرواتے۔کوئی کہتا رہا اجتماع میں 100 لوگ تھے کسی نے کہا 2000 لوگ تھے۔کیا ایسے گواہان کی شہادت پرکسی کو پھانسی لگا دیں۔جسٹس فائزعیسی نے ریمارکس دیئے کہ اتنا جھوٹ ؟ گواہان کے بیان میں زمین آسمان کا فرق ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حلف پر گواہان نے جھوٹ بولا۔تمام گواہان نے ایک دوسرے کو جھوٹا کیا۔ گواہ سچے ہوتے تو فوجداری نظام میں مسائل ہی نہ ہوتے۔قاری صاحب نے سچ بولنا ہوتا تو درخواست خود لکھ دیتے۔مدعی نے نہ خود کچھ سنا نہ دیکھا، مدعی کونہ درخواست لکھنے والے کا علم ہے نہ دینے کی جگہ کا۔چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ حساسیت کے پیش نظرگواہان کو جیل نہیں بھیجا۔کیا ہم اسلام کا یہ تصوردے رہے ہیں جھوٹی گواہی دے کر۔کیا مسلمان حلف پرجھوٹی گواہی دیتا ہے۔الزام ہم پرآتا ہے کہ بری کر دیتے ہیں۔پہلے اپنے گریبان مین جھانکیں کہ کیس کیا بنایا تھا۔آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے الزام میں 2010 خ س میں ننکانہ صاحب کی ماتحت عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔لاہور ہائی کورٹ نے بھی آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کردی تھی جس کے بعد ملزمہ نے عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کی تھی۔گزشتہ سال 31 اکتوبرکوسپریم کورٹ نے سزا کالعدم قراردے کرآسیہ بی بی کورہا کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں