بین الاقوامی

سری لنکا چرچ حملوں میں آسٹریلوی شہری نے بیوی اور بیٹی کو کھودیا

حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی

سری لنکا میں ہونے والے حملوں میں آسٹریلیا کے باشندے نے اپنی بیوی اور بیٹی کو کھو دیا۔اپنی بیوی اور بیٹی کو سری لنکا میں ہونے والی دہشت گردی میں کھو دینے والے والد ٹی وی بات کرتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سودیش کولونی کا کہنا ہے کہ جب حملہ ہوا تو وہ چرچ سے باہر تھے۔
میں نے دھماکے کی بہت اونچی آواز سنی جس کے بعد میں بھاگتے ہوئے چرچ کے اندر گیا۔ور میں نے دیکھا کہ میری بیٹی اور میری بیوی فرش پر پڑی تھیں۔میں نہیں جانتا تھا کہ اس وقت کیا کرنا ہے۔میرا دماغ کام نہیں کر رہا تھا اور اس وقت مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اب مجھے کیا کرنا چاہئیے۔بس میں نے سامنے فرش پر پڑی اپنی بیٹی کو دیکھا میں نے اسے اٹھایا لیکن وہ مر چکی تھی،اور اس سے اگلے دن ہی میری بیوی مر گئی اور اس طرح میرا پورا خاندان تباہ ہو گیا۔
سودیش کولونی اہنے اہل خانہ کے ساتھ جنوب مشرق میں رہتے تھے اور حالیہ برسوں میں سری لنکا واپس آئے تھے۔واضح رہے کہ سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر ہوٹلز اور چرچ پر دھماکے کیے گئے ۔ حملوں میں 359 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ گذشتہ روز سری لنکا حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ سری لنکا میں گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں دہشتگرد حملے کیے گئے تھے۔
سری لنکا میں گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں دہشتگرد حملوں کی ذمہ داری کالعدم دہشتگرد تنظیم داعش نے قبول کر لی تھی۔ اس سے قبلسری لنکا نے گرجا گھروں اور ہوٹلز میں ہونے والے ہولناک بم دھماکوں کے بعد بین الاقوامی نیٹ ورک پر حملوں میں ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ حملوں پر تحقیقات سے متعلق پولیس نے کہا کہ انہیں کولمبو بس اڈے سے 87 بم ڈیٹونیٹرز ملے ہیں،پولیس کو بستیان مواتھا نجی بس اسٹینڈ سے ڈیٹونیٹرز ملے جن میں سے 12 زمین پر اور 75 قریبی کچرے کے ڈھیر سے پائے گئے۔
پولیس نے بتایا کہ انہوں نے 24 افراد کو گرفتار کیا تھا اور تمام افراد سری لنکا کے شہری تھے تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں دیں۔تفتیش کاروں کے مطابق حملوں میں 7 خودکش بمباروں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ حکومتی ترجمان نے کہا کہ حملوں میں ایک بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث تھا۔

Source
UrduPoint

Related Articles

Back to top button
شیئر کریں