‏مسیحی خبریں

چینی لڑکوں سے شادی کرکے جانے والی لڑکیوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے

لڑکیوں سے بچے پیدا کروا کے بیچے جاتے ہیں، خوبصورت لڑکیوں کو بیچ دیا جاتا ہے اور کم خوبصورت لڑکیوں کے اعضاء نکال لیے جاتے ہیں

فیصل آبادکی مسیحی لڑکی نتاشا نے چینی لڑکوں کے ساتھ شادی کرکے چین جانی والی پاکستانی لڑکیوں کے ساتھ ہونے والے انسانیت سوز سلوک کی داستان سناتے ہوئے بتایا ہے کہ جو لڑکیاں پاکستان سے شادی کر کے چین جاتی ہیں ان لڑکیوں سے بچے پیدا کروا کے بیچے جاتے ہیں اور پھر خوبصورت لڑکیوں کو بیچ دیا جاتا ہے جبکہ کم خوبصورت لڑکیوں کے جسم سے اعضاء نکال لیے جاتے ہیں اور انہیں بیچ دیا جاتا ہے۔
نتاشا نے بتایا کہ چین میں پاکستان سے جانے والی لڑکیوں سے غلط کام کروایا جاتا ہے اور ان جسم فروشی کے کروہ دھندے میں پھنسا دیا جاتا ہے۔ نتاشا نے بتایا کہ اسے بتایا گیا تھا کہ وہ چین جا کر نوکری بھی کر سکے گی اور اس طرح وہ اپنے غریب والدین کی مدد بھی کر سکے گی لیکن جب وہ چین پہنچی تو اسے پتا چلا کہ وہاں کیسے پاکستان سے آنے والی لڑکیوں پر ظلم و تشدد کیا جاتا ہے اور ان سے مکروہ دھندے کروائے جاتے ہیں اور لڑکیوں سے بچے پیدا کروا کے بیچے جاتے ہیں، خوبصورت لڑکیوں کو بیچ دیا جاتا ہے اور کم خوبصورت لڑکیوں کے اعضاء نکال لیے جاتے ہیں۔ نتاشا کی والدہ نے بتایا ہے کہ ان کی بیٹی نے جب انہیں فون پر تمام صورتحال بتائی تو انہوں نے انس بٹ نامی اس شخص سے رابطہ کیا جس نے یہ رشتہ کروایا تھا تو انہیں دھمکانے لگا کہ آپ کا گھر اور پلاٹ بک جائے گا لیکن آپ نتاشا کو نہیں بلوا سکیں گی۔
چینی شہریوں کی جانب سے پاکستانی لڑکیوں سے شادی کرنے اور ان پر ظلم ڈھانے کے کئی واقعات حال ہی میں سامنے آئے ہیں جو باعث تشویش ہیں کہ کس طرح چینی باشندے پاکستانی لڑکیوں سے جعلی شادیاں کرکے انہیں اپنے ساتھ چین لے جاتے ہیں اور وہاں انہیں جسم فروشی اور اعضا فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔
چینی باشندے سے چنگل سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہونے والی فیصل آباد کی رہائشی ایک لڑکی مہک نے اس حوالے سے کئی ہولناک انکشافات کیے۔ سماجی رہنما سلیم اقبال نے اس حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ مہک نے مزید انکشافات کرتے ہوئے کیا کہا کہ اس کام میں ریٹائرڈ ڈی ایس پی پرویز بٹ کا بیٹا انس بٹ اس گینگ کا سرغنہ تھا ۔ چونکہ اس میں بہت پیسہ ہے اسی لیے کافی لوگ اس میں شامل ہوتے گئے۔
اب تک تقریباً ایک ہزار سے 1200 لڑکیوں کی شادی ہو چکی ہے جس میں سے 300 کے قریب لڑکیاں مسلمان تھیں۔ اس حوالے سے ایف آئی اے کو شکایات موصول ہوئی ہیں اور ایف آئی اے کے مطابق چینی نوجوان پاکستانی میرج بیور اور ایجنٹس سے مل کر پاکستانی لڑکیوں سے شادی کر تے تھے۔ شادی کے بعد ان لڑکیوں سے جسم فروشی کا دھندہ کروایا جاتا تھا، اس بات کے بھی شواہد ملے ہیں کہ لڑکیوں کے اعضا بھی نکالے گئے۔ایف ائی اے اس سکینڈل میں اب تک مجموعی طور پر 10 چینی لڑکوں کو گرفتار کر چکی ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔

Source
UrduPoint

Related Articles

Back to top button
شیئر کریں