پاکستانی

مسیحی کمیونٹی نے مسیحی شادی ایکٹ 2019 کو مسترد کردیا

پاکستان کرسچین کمیونٹی نے مسیحی شادی ایکٹ 2019ء کو نامنظور کرتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ طلاق کا عمل کلیسا کی تعلیمات اور مقدس بائیبل کےاحکامات کیخلاف ہے۔

لاہور پریس کلب میں ہونیوالی پریس کانفرنس میں فادر جیمز چنن او پی، یونس شہزاد او پی کیتھولک چرچ، ریورنڈ شاہد معراج چرچ آف پاکستان، ریورنڈ عمانویل کھوکھر، ڈاکٹر ڈومینک گل چئیرمین سپریم کونسل آف سی بشپ پاکستان سمیت دیگر کا کہنا تھا کہ مسیحی شادی اور طلاق ایکٹ 2019ء کے ذریعے طلاق کے قانون کو نہایت آسان بنادیا گیا ہے۔

کرسچن کمیونٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ شق نمبر48 کے مطابق میاں بیوی میں جھگڑا ہوجائے تو دونوں میں سے کوئی ایک طلاق کیلئے عدالت سے رجوع کرسکتا ہے، جس پر شدید تحفظات ہیں۔

Source
Jang

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
شیئر کریں