توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگا کر بینک منیجر کوقتل کرنے والا انجام کو پہنچ گیا

صوبہ پنجاب کے ضلع خوشاب میں بینک منیجر عمران حنیف پر توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگا کر ذاتی رنجش پر قتل کرنے والے گارڈ کو 2 بار سزائے موت سنادی گئی۔ تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نیشنل بینک کے منیجر کے قتل کیس کا فیصلہ سنادیا ، عدالت نے اپنے فیصلے میں ملزم گارڈ احمد نواز سوھا کو مجموعی طور 2 بار سزائے موت اور 12سال قید کی سزا سنائی ، اس کے علاوہ عدالت کی جانب سے ملزم کو 11 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی۔

واضح رہے کہ خوشاب میں 4 نومبر 2020 کو پیش آئے اس واقعے میں بینک کے سیکورٹی گارڈ نے ذاتی دشمنی کی بنیاد پر بینک منیجر عمران حنیف کو قتل کرنے کے بعد الزام عائد کیا کہ منیجر توہین رسالت کا مرتکب ہوا تھا ، واقعے کے بعد بینک کے دیگر ملازمین نے بتایا کہ منیجر پر لگایا گیا الزام غلط ہے ، وہ کئی سالوں سے منیجر عمران حنیف کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور انہیں اچھی طرح جانتے ہیں ، منیجر نے کبھی دوران ڈیوٹی مذہبی یا مسلک سے متعلق کوئی بحث کی اور نہ ہی کسی کو قائل کرنے کی کوشش کی جب کہ مقتول عمران حنیف کا رویہ بھی مناسب تھا ، عین ممکن ہے کہ گارڈ نے کسی ذاتی رنجش پر منیجر کو قتل کیا۔

بعد ازاں علماء کمیٹی نے تحقیقات میں مقتول بینک منیجر کو بے گناہ قرار دے دیا ، خوشاب میں کی نیشنل بینک کے منیجر کو توہین رسالت کے الزام پر گارڈ کی جانب سے قتل کیے جانے کے واقعے کے بعد تحقیقات کیلئے علاقے کے تمام مکاتب فکر پر مشتمل ایک مذہبی کمیٹی قائم کی گئی تاکہ تعین کیا جاسکے کہ عمران حنیف کبھی توہین رسالت کا مرتکب ہوا یا اس کا قتل ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے ، کمیٹی میں شامل علماء کی جانب سے بینک کے تمام ملازمین سے مقتول عمران حنیف کے کردار اور مذہبی خیالات سے متعلق معلومات حاصل کی گئیں۔

کمیٹی نے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد جاری رپورٹ میں بتایا کہ مقتول بے گناہ تھا ، مقتول عمران حنیف گستاخی رسول کا مرتکب نہیں ہوا بلکہ وہ تو سچا عاشق رسول تھا ، کمیٹی نے قتل کے ملزم کو قرار واقعی سزا دلوانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی انتظامیہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ معاملہ کی میرٹ پر تحقیقات کرکے ملزم کو سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی ایسا جھوٹا الزام لگا کر امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں