پاکستانی‏مسیحی خبریں

پاکستانی مسیحیوں کے لیے آخر طلاق کیوں نا ممکن ہے جانئیے

بہاولپور کی صفیہ بی بی کئی سال سے اپنے خاوند صفدر مسیح کا تشدد سہہ رہی تھی لیکن 29 مئی 2016ء کوصفدر نے اسے اتنا مارا کہ وہ جانبر نہ ہوسکی۔
ستم ظریفی تو یہ ہے کہ صفیہ کا بھائی سلیم بھٹی اس دن اپنے بچوں کے ساتھ اس کے گھر میں ہی تھا۔ اس نے صفدر کو مارنے سے روکا لیکن پھر وہ اپنے گھر چلا گیا۔
اس کے جاتے ہی صفدر نے صفیہ کا گلا دبا دیا۔
شورشرابہ سن کر سلیم اورمحلے دار گھر پہنچے تو صفیہ حالت نزاع میں تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرپاتے، وہ دم توڑ گئی۔
یہ تفصیلات سلیم کی جانب سے بہاول پور کے بغداد الجدید پولیس سٹیشن میں درج ہونے والی ایف آئی آرمیں درج ہیں۔
قائداعظم میڈیکل کالج کے ڈاکٹروں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق پانچ بچوں کی ماں صفیہ کے ماتھے، تھوڑی اوربائیں گال پر گہرے زخم کے نشان تھے۔
رپورٹ میں ایسے زخموں کی نشاندہی بھی کی گئی جو بھر چکے تھے یا بھر رہے تھے۔
اس سے ثابت ہوتا تھا کہ اس کا شوہر کئی سال سے اس پر تشدد کررہا تھا۔
صفیہ کے ہمسائیوں کے مطابق چند ماہ قبل صفدر نے اس کی ٹانگ کو گرم استری سے داغا تھا۔
ایسا نہیں کہ صفیہ نے صفدر سے جان چھڑانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
بہاول پور میں کام کرنے والے وکیل اللہ رکھا نے بتایا کہ اس نے مختلف مواقعوں پر تیں باراس سے طلاق کا طریقہ کار پوچھا تھا۔
مسیحیوں کے عائلی معاملات نوآبادیاتی دور کے کرسچئین میرج ایکٹ 1872ء اور سکسیشن ایکٹ 1925ء کے مطابق طے کیے جاتے ہیں۔
1981ء میں جنرل ضیاالحق نے کرسچئین میرج ایکٹ میں صدارتی فرمان کے ذریعہ ترمیم کرتے ہوئے طلاق کا حصول مزید مشکل بلکہ تقریباً ناممکن بنا دیا تھا۔
قانون میں یہ تبدیلی ان دنوں ہوئی جب سول قوانین کو مذہبی لاٹھی سے ہانکا جاتا تھا۔
روایتی طورپرکیتھولک مسیحیوں کا یقین ہے کہ شادی ’اچھی ثابت ہو یا بری، یہ ساری زندگی کا ملاپ ہے اور اسے ختم نہیں کیا جاسکتا‘۔
میٹریمونئیل کازز ایکٹ 1857ء کا اطلاق عہد برطانیہ میں ہندوستان پر بھی ہوتا تھا۔ اس میں شادی سے متعلق جھگڑوں کے فیصلوں کو چرچ کے اختیار سے نکال کر سول عدالتوں کے سپرد کیا گیا تھا۔
تب سے  116 سال سے زیادہ عرصے تک شادی کو مذہبی کی بجائے دو افراد کے درمیانمعاہدہ سمجھا گیاتھا۔
ضیاالحق نے طلاق کے قوانین (کرسچئین ڈائیورس ایکٹ ) کی شق 7 کو ختم کردیا جس سے جوڑے طلاق کے لیے برطانوی قانون کے مطابق استدعا نہیں کرسکتے تھے۔
ترمیم شدہ قانون کے مطابق مرد کو طلاق دینے کے لیے عورت پر زناکاری، تبدیلی مذہب یا دوسری شادی کے الزام لگانا ہوتے تھے۔

اسی طرح مسیحی عورت کو بھی شوہر سے چھٹکارے کے لیے عدالت میں  ایسے ہی الزامات لگانا ہوتے تھے۔

سب سے آسان طریقہ تبدیلی مذہب تھا۔
مسیحی کمیونٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ طلاق لینے کی خاطر بہت سی مسیحی عورتوں نے مسیحیت چھوڑ کر اسلام ’قبول‘ کر لیا۔
رواں برس 23 مئی کو لاہور ہائی کورٹ نے صفیہ کی موت سے صرف ایک ہفتہ قبل کرسچئین ڈائیورس ایکٹ کی دفعہ 7 کو بحال کردیا۔
صفیہ یا تو اس تبدیلی سے واقف نہیں تھی یا وہ مار پیٹ کے آگے ہتھیار ڈال چکی تھی۔
یہ فیصلہ جنوری 2016ء میں امین مسیح کی جانب دائر کیے گئے مقدمے میں کیا گیا۔
درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا لیکن اس پر زنا کاری کا الزام لگا کر اس کی تذلیل نہیں کرنا چاہتا۔
امین مسیح کے وکیل شیراز ذکا کے کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں میٹریمونیل کاززایکٹ کی اب وسیع تشریح کی جاتی ہے جس سے مصالحت نہ ہونے کی صورت میں مرد یا عورت کوئی بھی  فریق اپنی شادی ختم کرسکتا ہے لیکن پاکستانی مسیحیوں کو یہ حق حاصل نہیں ہے۔
اس پٹیشن کے ایک ماہ بعد لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے رائے لینے کے لیے چرچ آف پاکستان کے بشپ ملک اور بشپ عرفان جمیل کو نوٹس جاری کیے۔
بشپ ملک، جو لاہور کے بشپ ہیں، نے بتایا کہ  ضیا دور میں دفعہ 7 کے خاتمے سے پہلے مسیحی مذہبی رہنماؤں سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی تھی۔
پاکستان تحریک انصاف کی رکن پنجاب اسمبلی شنیلا روت  نے بھی اس بات کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا ہے کہ جن  دنوں یہ دفعہ ختم کی گئی ان کے والد رائیونڈ کے میتھوڈسٹ بشپ تھے لیکن حکومت میں سے کسی نے ان کی رائے نہیں لی۔
سپریم کورٹ کی وکیل حنا جیلانی کے مطابق  ضیاالحق کو کسی کمیونٹی کے عائلی قوانین کو ان کی مشاورت کے بغیر بدلنے کا اختیار نہیں تھا۔
حنا جیلانی کوامین مسیح کیس میں عدالت نے معاون مقرر کیا تھا۔ انہوں نے دفعہ 7 کے خاتمے کے حق میں دلائل دئیے۔
جن دنوں عدالت میں اس مقدمے کی کارروائی جاری تھی  شنیلا روت نے پنجاب اسمبلی میں ایک بل پیش کیا۔
اس بل میں طلاق کی متعدد وجوہ کو بیان کیا گیا تھا:
’اگر میاں بیوی میں کوئی کم عمر ہے، اگر یہ شادی کسی ایک کی مرضی کے خلاف ہوئی ہے، اگر شوہر جان بوجھ کر مالی، جذباتی یا جسمانی ضروریات کو جان بوجھ کر پورا نہیں کرتا تو طلاق ہوسکتی ہے۔‘
جب عدالت کو بل کے بارے میں پتا چلا تو شیلا روت کی رائے طلب کی گئی۔
ان کا مؤقف تھا کہ مسیحیت مردوزن میں مساوات کی قائل ہے لیکن دفعہ 7 کو ختم کرنے سے جھکاؤ مرد کی جانب ہوگیا تھا۔

عدالت نے خواتین کی حالت زار کے بارے میں بنائے گئے خصوصی محکمے پنجاب کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن فوزیہ وقار کو بھی بلایا۔
انہوں نے بتایا کہ  کرسچئین میرج ایکٹ میں  شادی کے خاتمے کی بیان کردہ شرائط ، مرد اور عورت کے لیے مساوی نہیں۔ یہ آئین کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے جن میں واضح کہا گیا ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور جنس کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں ہے۔
فوزیہ وقار نے طلاق کی خاطر شوہر زناکاری یا جسم فروشی کے الزامات کو غیر آئینی اور عورت کی ہتک قراردیا۔
دلائل سننے کے بعد جسٹس منصور علی  شاہ نے دفعہ 7 کو ختم کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔
لیکن صفیہ کے لیے یہ فیصلہ بہت دیر سے آیا۔
گرچہ دفعہ 7 بحال ہوچکی ہے لیکن طلاق کو اب بھی قابل رسوائی سمجھا جاتا ہے۔
کٹر مسیحیوں کی بڑی تعداد آج بھی دفعہ 7 کی بحالی کا مطالبہ کرتی ہے۔

ان میں انسانی حقوق کے دو وزیر بھی شامل ہیں اور دونوں مسلم لیگ (نواز) کی نمائندگی کرتے ہیں۔
شنیلا روت کے پیش کردہ بل پر بحث کے لیے 2 جون 2016ء کو پنجاب حکومت کی اقلیتی مشاورتی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزیر برائے انسانی حقوق و اقلیتی امور خلیل طاہر سندھو نے کہا کہ ان کے خیال میں شادی مذہبی میثاق ہے، لہٰذا وہ طلاق پر یقین نہیں رکھتے۔
ان کے استفسار پر اجلاس میں موجود بشپ جمیل اور متعدد مذہبی رہنماؤں کا جواب تھا کہ بائبل کے اصولوں کے مطابق طلاق کی اجازت نہیں ہے۔
چرچ آف پاکستان بھی یہی بات کہتا ہے کہ شادی کوختم نہیں کیا جاسکتا۔
ویٹیکن کی ویب سائٹ میں لکھا ہے ’یسوح مسیح خالق کی اصل مرضی پر اصرار کرتے ہیں جس کے مطابق شادی ناقابل تحلیل ہے۔ طلاق قانون قدرت کی بہت بڑی خلاف ورزی ہے۔ نئی شادی کرنا، چاہے سول قانون اس کی اجازت دیتا ہو، ناقابل قبول ہے اور دوبارہ شادی کرنے والا جوڑا کھلی اور مستقل زناکاری کا مرتکب ہوتا ہے۔‘
انسانی حقوق کے وفاقی وزیر کامران مائیکل دفعہ 7 کو بحال کرنے یا نہ کرنے پر حتمی فیصلے سے پہلے مزید مشاورت کے خواہاں ہیں۔
ان کا کہنا ہے مذہبی رہنماؤں کی ایک کانفرنس بلائی گئی ہے۔ ان کے خیالات کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ وہ طلاق کے متعلق مذہبی تعلیمات کو جان سکیں۔
مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے بہت سے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ طلاق کے متعلق قانون میں اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔
بشپ ملک کہتے ہیں کہ حدود آرڈیننس کی موجودگی میں زنا کاری کی بنیاد پر طلاق کا حصول پیچیدہ معاملہ ہے۔
پاکستان کی مسیحیوں میں فروعی اختلافات بھی عائلی معاملات میں یکساں مذہبی قانون کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
بہت سے پروٹسٹنٹ کے نزدیک شادی مقدس اورمذہبی میثاق نہیں۔

چرچ آف پاکستان کے ماڈریٹر بشپ سمیوئل کا مؤقف ہے کہ پروٹسٹنٹ ازم میں ازدواجی معاملات پر فیصلے کا اختیار چرچ کی بجائے ریاست کو ہونا چاہئے۔

’شادی اور طلاق کی رجسٹریشن ریاست کرتی ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ خالصتاً مذہبی معاملے ہیں۔‘

دیگر کا خیال ہے کہ سیکشن 7 کی بحالی پاکستان میں مسیحیوں کی شادی اور طلاق کے قانون کی اصلاح کے لیے ناکافی ہے۔

 مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی میری گِل کا یہی خیال ہے۔
ان کے مطابق یہ قانون آج کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ ان کے خیال میں  عائلی معاملات پر انگریز مذہبی رہنماؤں اور چرچ آف انگلینڈ کی مذہبی اور قانونی آرا  کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ مسیحیوں کے بارے قوانین میں تضادات ہیں۔
وہ بتاتی ہیں  کہ طلاق کے ایکٹ میں لڑکے کے لیے شادی کی کم سے کم عمر 16 سال اور لڑکی کے لیے 13 سال ہے جو 1929ء کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔
موجود قوانین میں بہت سے سقم کی بنا پر وہ ایک نیا بل لانے کی تیاری کررہی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ طلاق کے قوانین کو معروضی حالات سے ہم آہنگ کرنے اور ناانصافی پر مبنی شقیں ختم کی ضرورت ہے۔ متنازع شقیں نا صرف امتیازی ہیں بلکہ یہ قانونی پیچیدگیوں کا باعث بنتی ہیں۔

Related Articles

Back to top button
شیئر کریں