پاکستانی‏مسیحی خبریں

چرچ کیخلاف جھوٹی شکایت، چرچ و پاسٹرکا تقدس پامال کرنیوالے پولیس کانسٹیبل کیخلاف ایف آئی آر درج نہیں ہوسکی

لاہور کے علاقے فاضلیہ کالونی میں چرچ میں دورانِ عبادت پولیس کے گھسنے کا واقعہ 12 جون بروز اتوار کو پیش آیا،عامر عبداللہ نامی ایک ہیڈ کانسٹیبل جو کہ چرچ میں دورانِ عبادت داخل ہوگیا اور عبادت کے عمل میں رکاوٹ پیدا کرتے ہوئے شرکاء کو متاثر کیا اور پادری صاحب کیساتھ بدتمیزی کرتے ہوئے انہیں مارا بھی۔ مسیحی برادری پولیس حکام کی جانب سے اس ہیڈ کانسٹیبل عامر عبداللہ کیخلاف کوئی کاروائی نہ کرنے کی وجہ سے شدید غم وغصے کا اظہار کررہی ہے۔
ایک مسیحی رہنما پاسٹر سموئیل کھوکھر کا کہنا تھا کہ ’آئی جی جنرل پنجاب پولیس کو پولیس اہلکاروں کو اخلاقیات کی تعلیمات دینی چاہیئیں‘ تفصیلات کیمطابق ایک مقامی مسلمان رہائشی شبیر شاہ نے پولیس کی ہیلپ لائن پر فون کیا اور چرچ انتظامیہ کیخلاف شکایت کی کہ چرچ انتظامیہ لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کررہی ہے جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ 
بظاہر چرچ کے باہر کوئی لاؤڈ اسپیکر نہیں لگایا گیا تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پولیس سے کی گئی یہ شکایت سراسر کاغلط تھی۔ اس شکایت کی اطلاع ملتے ہی ہیڈ پولیس کانسٹیبل عامر عبداللہ اور کچھ دوسرے اہلکار چرچ میں بغیر کسی لیگل وارنٹ کے گھس گئے اور دعائیہ عبادت کو روکنے کیلئے ہراساں کرنے لگے،جب پادری ریاض رحمت نے عبادت میں خلل پیدا ہونے سے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے پولیس ہیڈ کانسٹیبل عامر عبداللہ سے پرامن رہنے کو کہا تو کانسٹیبل عامر عبداللہ نے پادری صاحب کوچرچ میں حاضرین کے سامنے تھپڑ رسید کرنا شروع کردیئے۔ اس ہنگامہ آرائی کی وجہ سے چرچ سروس برُی طرح متاثر ہوگئی اور عبادت کے حاضرین نے انتقامی کاروائی کی کوشش کی لیکن پادری ریاض رحمت نے سب کو پرامن رہنے کو کہا۔
پادری سیموئیل کھوکھر کا کہنا تھا کہ ’پولیس اہلکار نے پادری صاحب اور گرجا گھر کی بے حرمتی کی ہے،ہم اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں‘۔
اس کیس میں سب کچھ واضح ہے اور بالکل صاف کیس سمجھ میں آتا ہے لیکن ابھی تک جھوٹی شکایت کرنے والے شبیر شاہ کیخلاف نہ کوئی ایف آئی آر درج ہوسکی ہے اور نہ ہی ہیڈ کانسٹیبل عامر عبداللہ کیخلاف کوئی ایف آئی آر  درج ہوسکی ہے جس نے بالکل واضح طور پر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عبادت گاہ کے تقدس کی بے حرمتی کی اور ایک گستاخانہ عمل کیا ہے۔پادری سموئیل کھوکھر نے آئی جی پنجاب پولیس سے کو پختہ تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اور شبیر شاہ سمیت ہیڈ کانسٹیبل عامر عبداللہ جسے اس واقعے سے کچھ دیر بعد ہی معطل کردیا گیا تھا کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔

Related Articles

Back to top button
شیئر کریں