پاکستانی‏مسیحی خبریں

لاہور: پولیس کا ایک مقامی گرجا گھر میں دورانِ عبات گُھس کر پاسٹر پر تشدد

لاہور (آن لائن) 12 جون بروز اتوار کو دورانِ عبادت پولیس اہلکار ایک گرجا گھر میں داخل ہوئے اور پاسٹر انچارج پر حملہ کردیا۔ یہ واقع لاہور کے علاقے فضلیہ کالونی میں پیش آیا،جہاں پولیس نے یونائٹڈ کرسچن چرچ میں دورانِ عبادت داخل ہوئے اور چرچ کے انچارج پادری صاحب کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

اچھرہ پولیس تھانے کی پولیس اتوار کے روز جب چرچ میں اتوار کی دعائیہ تقریب جاری تھی ،اسی دورانیے میں گھُس گئے اور پاسٹر ریاض رحمت پر تشدد کرنا شروع کردیا۔
پولیس کی جانب سے اس شرانگیزی کے بعد مسیحیوں نے فیروزپور روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور سڑک کو مکمل طور پر ٹریفک کیلئے بند کردیا،احتجاجی مظاہرہ پولیس افسروں کی جانب سے قصوروار پولیس اہلکاروں کیخلاف کاروائی کی یقین دہانی پر ختم کردیا گیا۔ مسیحیوں نے مطالبہ کیا کہ جن پولیس اہلکاروں نے دورانِ عبادت گرجا گھر پر دھاوا بول دیا انکے خلاف کیس دائر کیا جائے،انہوں نے زوردیا کہ قصورواروں کیخلاف عبادت میں مداخلت ڈالنے اور گرجا گھر کے تقدس کو پامال کرنے کے الزام میں کیس رجسٹرڈ کیا جائے۔ احتجاج کرنے والی مسیحیوں کا کہنا تھا کہ اگر کوئی مسیحی اس طرح کے ناپاک عمل ما ارتکاب کرتا تو 
اس پر کفر کا الزام لگا دیا جاتا۔

دوسری جانب ایک نجی نیوز ٹی وی چینل City42 کی ویب سائٹ پر شائع ہونیوالی خبر کیمطابق احتجاجی مظاہرین نے بتایا کہ شہزاد نامی ایک شہری نے پولیس کے نمبر 15 پر لاؤڈ اسپیکر کے اونچے آواز کی جھوٹی شکایت کی تھی جس پر پولیس اہلکار موقع پر پہنچے اور چرچ کے پادری سے تلخ کلامی شروع کردی۔

Related Articles

Back to top button
شیئر کریں