پاکستانی‏مسیحی خبریں

آسیہ بی بی کےوکیل سیف الملوک کی طرف سےآسیہ بی بی کوبچانےکیلیئےسب کچھ داؤپر

لاہور : مظاہرین نے اس ہفتہ حکومت پر دباؤ ڈالا کہ آسیہ بی بی کوپھانسی کی سزا دی جائے,آسیہ بی بی 5بچوں کی ماں ہیں اور توہینِ رسالت کے جرم میں جیل میں ہیں ۔ ایسے میں صرف ایک شخص( آسیہ بی بی کا وکیل) ہے جو آسیہ بی بی اور اسکی پھانسی کی سزاکے درمیان اپنی جان خطرے میں ڈالے ہوئے کھڑا ہے.آسیہ بی بی کے وکیل پولیس گارڈز کی زیرِ نگرانی اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ لاہور میں رہائش پزیر ہیں, پولیس گارڈ,انٹیلی جینس افسران کے بیان اور رپورٹسپر.تعینات کیئے گئے

Read Lawyer risks everything to save Aasia Bibi on Express Tribune in English

 آسیہ بی بی جو کہ ایک مسیحی خاتون ہیں,کو پانی کے ایک برتن کو لے کر مسلمان عورت سے بحث پر توہینِ رسالت  کی مجرمہ قرار دیکر 2010؂ میں سزائے موت کی سزا سنائی گئی 
سیف الملوک جو کہ خود ایک مسلمان ہیں, ان کا کہنا تھا کہ وہ ڈر کے سائے میں جی رہے ہیں اور آج کل صرف گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر آنا جانا ان کا معمول ہے ہم کسی رشتہ دار یا دوستوں سے ملنے نہیں جاتے اور نہ ہی وہ ہم سے ملنے آتے ہیں۔ خطرہ اصلیت میں برقرار ہے اور توہینِ رسالت ایک نہایت ہی حساس مسئلہ ہے ,خاص کر اکثریتی پاکستانی مسلموں میں جہاں بغیر ثابت ہوئے ایسے الزامات کی بنا پر حلچل مچ جاتی ہے اور تشدد کا نشانہ جاسکتا ہے
انسانی حقائق کی تنظیموں کے مطابق اکثر اقلیتوں کو بڑی حد تک ذاتی وجو ہات اورذاتی جھگڑ وں کی بنا پر ایسے الزامات میں پھسایا جاتا ہے۔ آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک نے مزید کہا کہ 2014میں ایک مسیحی جوڑے (شمع اور شہزاد)کو بھی اسی طرح قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے کے جھوٹے الزام میں بھٹے میں جلا دیاگیا۔اسی طرح گزشتہ سال آسیہ بی بی کو بھی قیدِ تنہائی میں منتقل کردیا گیا۔

آسیہ بی بی کے وکیل نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’’ جب میں نے آسیہ بی بی کا کیس لیا تو میرے ساتھی وکلاء نے کہا کہ تم نے اپنے تابوط میں آخری کیل ٹھونک لیا ہے ‘‘ (اپنی موت کا انتظام کرلیا ہے)

لیکن سیف الملوک تنقید اور نفرت کا نشانہ بنیں گے یہ تب سے واضع تھا جب 2014میں آسیہ بی بی کا کیس ملوک کے ہاتھ میں آیا تھا, یاد رہے کہ یہی سیف الملوک صاحب گورنر پنجاب سلما ن تاثیر قتل کیس میں سپیشل پراسیکیوٹر کی حیثیت سے بھی شامل تھے اور اکیلے ایسے وکیل تھے جنہوں نے تاثیر صاحب کے قاتل کو سزا دلائی تھی جبکہ بہت سے دوسرے لوگوں نے انکی مخالفت کی ۔۔۔۔۔۔اس بارے میں وکیل سیف الملوک نے کہا کہ ’وہ ایک خوفناک لمحہ تھااور اگر انہیں میرا پتہ چلا کہ میں کون ہوں تو وہ گِدھوں کی طرح حملہ کرکے میرے ٹکڑے کر دیں گے‘۔۔۔۔ میرے دوست کہتے ہیں کہ ’’میں پاگل ہوں اور کہتے ہیں کہ میں خود اپنے خاندان کیلیئے دشمن بن رہا ہوں‘‘ ۔
آسیہ بی بی سمیت پاکستان میں17ایسے افراد جنہیں توہینِ رسالت کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی ہے مگر ابھی کسی کی سزا عمل میں نہیں لائی گئی ۔۔۔۔۔۔۔آخر میں آسیہ بی بی سے ملاقات کے بارے میں بتاتے ہوئے سیف الملوک نے کہا’ ’میں نے گزشتہ دنوں آسیہ سے قید میں ملاقات کی ہے اوروہ اچھی حالت میں ہیں میں نے قریب ڈھائی گھنٹے تک ان سے بات کی میں انکی آنکھیں چمکتی دیکھیں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ بہت پُر امید ہیں ‘‘

This news/post is translated in Urdu language from online news website(s)! Translated by @JoshiJoshua.

مزید خبریں

شیئر کریں
Close